سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 227 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 227

که جنرل صاحب کی طرف سے فوری طور پر صدقہ کرو اور ان کو بھی خط لکھو کہ فورا صدقہ کر دیں کیونکہ آپ کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔افسوس یہ خط ابھی ان تک پہنچا بھی نہیں تھا کہ ہوائی جہاز کے ایک حادثہ میں ان کی ناگہانی وفات کی خبر اخباروں میں چھپ گئی۔میں ان دنوں جامعہ احمدیہ میں طالبعلم تھا خبر پڑھی تو فورا پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں جا کر خود اس امر کی تصدیق کروائی اور تحب کیا کہ حضور کو اللہ تعالیٰ نے تعبیر کا کیا غیر معمولی ملکہ عطا فرمایا ہے۔لنڈے تعویذ سے حضور کو سخت نفرت تھی لیکن بعض اوقات مسنون دعائیں یا قرآن کریم کی سورتیں پڑھ کر جسم پر پھونکنے کا ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ انگلستان سے ایک عورت نے لکھا کہ اس کے خاوند کو بُرے برے خواب آتے ہیں تو حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔رات کو سوتے وقت آیۃ الکرسی اور تینوں قل پڑھ کر اپنے جسم پر پھونک کر سویا کریں۔آپ کا خوابوں کی تعبیر بتانا یا دعائیں کر کے پھونکنے کی نصیحت کرنا کسی واہمے یا خوش اعتقادی کے نتیجہ میں نہیں تھا بلکہ سنت کی پیروی اور خداداد علم کی بناء پر تھا۔تو ہمات وغیرہ سے سخت بیزار تھے۔جنوں بھوتوں کے عامیانہ تصویر کو ہمیشہ لغو اور بے بنیاد قرار دیا کرتے۔اور چیلنج کیا کرتے کہ مجھے بھی کسی جن یا بھوت کا سامنا کرایا جائے تاکہ میں دیکھوں کہ یہ کس بلا کا نام ہے۔اس ضمن میں مکرم میاں روشن دین صاحب زرگر بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ایک موقعہ پر جنوں کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ کسی نے جنوں کو کچھ دیتے دیکھا۔اس پر میں نے اپنی ایک سو پچھی کا واقعہ لکھ کر دیا کہ اس طرح بے موسم موتیا کی کلیاں اور آم آگئے۔آپ نے فرمایا۔میرے سامنے یا میرے نمائندہ کے سامنے وہ کچھ نہیں لاتے۔لیکن اس کے باوجود مشاہدات خواہ کتنے ہی عجیب کیوں نہ ہوں، ان کو تسلیم کرنے میں کبھی کوئی انقباض نہیں ہوا۔چنانچہ جنوں کے ذکر پر ایک دفعہ خود مجھ سے یہ ذکر فرمایا کہ میں جنوں کے عام تصور کا قائل نہیں ہوں یعنی ایسی مخلوق جسے اشرف المخلوقات پر کسی قسم کا غلبہ حاصل ہو اور اس کے شر اور خیر میں دخل رکھتی ہو دیا لفاظ حضرت صاحب کے نہیں لیکن مفہوم یہی تھا، لیکن ایک دفعہ خود میرے ساتھ ایسا گزرا ہے کہ میں نہیں کہ سکتا کہ اس کے ہیں پر وہ کون سی قوت کام کر رہی تھی۔ایک دفعہ میں اپنے دفتر میں کام میں مصروف تھا اور پڑھتے پڑھتے رُومال کی ضرورت محسوس کر کے بغیر دیکھے اس طرف ہاتھ بڑھایا جس طرف میں نے خود رومال رکھا تھا تو تعجب ہوا کہ رُومال وہاں نہیں تھا اس پر میں نے کتاب سے نظر اُٹھا کر جو دیکھا تو مجھ سے کچھ فاصلے پر رومال زمین سے تقریبا