سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 226 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 226

ایک شخص نے دیکھا کہ اُن کے والد فوت ہو گئے ہیں اور وصیت کر گئے ہیں کہ انہیں قائد اعظم کے مزار میں دفن کرنا۔بعد ازاں پولیس کی اجازت سے دفن کرنے لگے ہیں تو وہ زندہ ہیں مگر کہتے ہیں جلدی دفن کرو۔حضور نے اس خواب کی یہ تعبیر فرمائی کہ ان کے والد کی عمر لمبی ہو گی اور ان کو قومی خدمت کرنے کا موقع ملے گا۔ایک احمدی نوجوان نے ایک عجیب خواب دیکھا کہ وہ اپنے آپ کو حاملہ عورت کی صورت میں پاتا ہے اور اس کی والدہ اس کے ساتھ ایک کمرہ میں جاتی ہے جہاں اس کے ہاں ایک بچی پیدا ہوتی ہے۔اس کی تعبیر آپ نے یہ فرمائی کہ بظاہر ناممکن کام ممکن ہو جائے گا۔ایک دوست نے خواب میں دیکھا کہ ان کے مرحوم والد نے انگوروں کی پیٹی بھیجی ہے جس میں سوراخ کر کے ایک چوہا داخل ہو جاتا ہے۔حضور نے یہ تعبیر فرمائی کہ چوہے سے مراد منافق ہے دعاء استغفار کریں۔صدقہ بھی بھیج دیں۔سلسلہ کے ایک بزرگ نے خواب دیکھا کہ اُن کے اُوپر کا دانت ٹوٹتا ہے اور ہلانے سے گکھڑ جاتا ہے۔حضرت صاحب نے تعبیر فرمائی کہ اگر دانت زمین پر نہیں گر گیا اور صاف تھا سڑا ہوا نہ تھا تو خواب بُری نہیں۔کئی مرتبہ حضور کے سامنے کوئی خواب زبانی بیان کی جاتی تو آپ اسے بڑی توجہ سے سنتے اور یہ ضروری نہ ہوتا کہ ہر خواب کی تعبیر کریں۔بعض اوقات خاموش رہتے اور کوئی جواب نہ دیتے بعض اوقات فرماتے کہ یہ نفسانی خیالات یا پیٹ کی خرابی سے ہوا ہے۔لیکن زیادہ تر یا تو خواب کی تعبیر فرما دیتے یا دعا، استغفار اور درود پڑھنے اور صدقات دینے کی نصیحت پر اکتفا فرماتے بہر حال یہ طریق نہیں تھا کہ ہر خواب کی خواہ وہ کیسی ہی ہو فورا تعبیر بتا دی جائے۔صرف احمدی احباب ہی آپ کو خوابوں کی تعبیر کے لئے نہیں لکھا کرتے تھے بلکہ متعد د غیر احمدی شرفاء بھی جو حضور کی روحانیت اور علم و فضل سے متاثر تھے بسا اوقات حضور کی خدمت میں اپنی بعض غیر معمولی خوابیں لکھ کر تعبیر اور دعا کی درخواست کیا کرتے۔اس کی ایک دلچسپ مثال جو ذاتی طور پر میرے علم میں ہے ہدیہ قارئین کرتا ہوں :- میجر جنرل شیر خان صاحب مرحوم اگر چه احمدی نہیں تھے مگر حضرت صاحب کی رُوحانیت سے بڑے متاثر تھے اور دعا کے لئے کبھی کبھی خط لکھتے رہتے تھے۔ایک مرتبہ تعبیر کر وانے کی غرض سے اپنی ایک خواب حضور کو لکھی جس کو پڑھتے ہی حضور نے فورا پرائیویٹ سیکرٹری کو ہدایت کی