سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 225
۲۲۵ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لکھی ران کا بڑا بھائی بھی جو ہندو تھا مولوی صاحب کے پاس ملازم تھا، تو حضور نے جوابا لکھا:۔بڑے قد والے بزرگ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم ہیں اور چھوٹے بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام ہیں۔یہ جو لڑ کا ہے یہ مسلمان ہو جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور بڑا بھائی جو بہت عرصہ تک مولوی عبداللہ صاحب سنورٹی کی صحبت میں رہا اُسے تو توفیق نہ ملی لیکن ان کو جلد ہی اسلام قبول کرنے کی توفیق مل گئی۔ایک دوسرا خواب اسی زمانہ میں مسلمان ہونے سے قبل انہوں نے یہ دیکھا کہ آسمان سے دو بندر اُترے ہیں وہ آدمیوں کو اُٹھا اُٹھا کر پٹخ رہے ہیں۔ان کے پاؤں کو بھی ایک بندر نے کاٹا ہے لیکن انہوں نے چھڑا لیا۔یہ خواب بھی حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لکھ بھیجی۔تو حضور کا جواب آیا کہ بالکل ایسی ہی خواب میں نے خود بھی دیکھی ہے۔دنیا میں کوئی سخت بیماری آنے والی ہے جس کا اس لڑکے پر بھی حملہ ہو گا اس کا خاص طور پر خیال رکھنا۔ماسٹر عبدالکریم صاحب کا بیان ہے کہ اس کے بعد شاہ کی جنگ عظیم اول وانا ، ائی انفلونزا چھوٹا جس میں میں اس بُری طرح جکڑا گیا کہ کچھ دن تک میرے دماغ پر بھی اثر یہ ہا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بھی انفلوئنزا سے بیمار ہو گئے جس کا علیحدہ ذکرہ آگے آئے گا اور اس طرح یہ تعبیر دونوں صورتوں میں بعینہ پوری ہو گئی۔شیخ فضل احمد صاحب کی روایت ہے کہ انہوں نے ایک رویا، دیکھی کہ قرآن شریف کی اصل عبارت تو حاشیہ میں لکھی ہوئی ہے لیکن متن کی جگہ تصویر بنی ہوئی ہے جس کا اس عبارت سے تعلق ہے۔مثلاً حضرت یوسف علیہ السّلام کے واقعہ کا حاشیہ میں جہاں ذکر ہے وہاں متن کی جگہ پر حضرت یوسف علیہ السّلام کے بھائیوں کی تصویر بنی ہوئی ہے کہ وہ کس طرح انہیں کنوئیں میں ڈال رہے ہیں۔حضرت خلیفہ ایسی الثانی رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ قرآن کریم کے عملی ظہور کا زمانہ آگیا ہے۔ایک دوست نے خواب دیکھا کہ میرا دایاں بازو کہنی سے کاٹ دیا گیا ہے، خون جاری ہے اور اُسے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حضرت صاحب نے یہ تعبیر فرمائی کہ بازو خواب میں بیٹا ہوتا ہے۔صدقہ دیں اور دعائیں اور استغفار کریں۔