سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 215

۲۱۵ جس کے ہم ہیں۔لیکن جو کچھ وہ پیش کریں گے وہ وہ نہیں ہوگا جو ہم پیشیں کرتے ہیں بلکہ اس کے بالکل خلاف ہو گا اس لئے یہی خطرناک دشمن ہوں گے۔ابھی تک ہماری جماعت نے اس خطرہ کو محسوس نہیں کیا مگر میرے دل میں خدا نے آج سے دو سال پہلے یہ بات ڈالی تھی۔کہ ہماری ترقی کے راستے میں یہی جماعت روک بنے گی اس لئے میں نے ان کی باتوں کا خوب مطالعہ کیا ہے اور خدا کے فضل سے ان کے شہر سے محفوظ رہنے کا توڑ بھی نکالا ہے جس کے متعلق ارادہ ہے کہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں مضمون لکھوں اور اس کا انگریزی ترجمہ یورپیں اور اس بھی تقسیم کیا جائے ہوتے اس اقتباس میں جماعت کو تو تنبیہ کی گئی تھی اس کو بعد میں جماعت نے مختلف رنگ میں ہندوستان اور پاکستان میں بھی اور بیرونی ملکوں میں بھی پورے ہوتے دیکھا۔امریکہ میں اس کی مثال علی جاہ محمد کی تحریک ہے جو ابتداء میں احمدی مسلمان تھا لیکن بہک کر ایسے دعوے شروع کر دیئے کہ اسلام میں ان کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔اور اس کی اس تحریک سے یقیناً جماعت احمدیہ کی راہ میں بہت سی مشکلات پیدا ہوئیں۔اس کے بعد آپ نے بڑی تفصیل سے رحمانی پیشیطانی اور نفسانی خوابوں کے مابین تمیز کرنے کے اصول بیان فرمائے جن میں سے ایک آپ ہی کے الفاظ میں بطور نمونہ پیش ہے۔آپ فرماتے ہیں : اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب شیطان کی بتائی ہوئی بعض باتیں پوری ہو جاتی ہیں تو پھر کیونکر مانا جائے کہ مومنوں کی خوا ہیں قیاسی نہیں ہوتیں۔وہ بھی قیاسی ہی ہوتی ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ جو شیطانی خواہیں ہوتی ہیں ان کے دو ایسے نشان ہیں۔جن سے قطعی طور پر اُن کا شیطانی ہونا ثابت ہو جاتا ہے ایک تو یہ کہ ایسے لوگوں کو ہمیشہ خواہیں اور کشوف انہی امور کے متعلق ہوتے ہیں جن کے کچھ نہ کچھ آثار ظاہر ہو چکے ہوتے ہیں لیکن جو رحمانی خواہیں اور کشوف ہوتے ہیں وہ اس وقت دکھائے جاتے ہیں جبکہ آثار و علامات کا کہیں له حقيقة الرؤياء ص۳۱۳