سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 210

۲۱۰ مشکل پیش آتی وہ کبھی انگریزی کے الفاظ بکثرت استعمال کر کے کبھی اپنی علاقائی زبان کے الفاظ بول کر کبھی اُردو میں پنجابی کا پیوند لگا کر اپنا مقصد بیان کر ہی لیتے۔بایں ہمہ ایسے لوگوں کو انخفاف کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ کبھی تو محبت اور پیار کی مسکراہٹیں چہروں پر بکھر جاتیں اور کبھی آنکھیں اس تصور سے نم آلود ہو جاتیں اور زبانوں پر درود جاری ہو جاتے کہ اللہ اللہ ! اسلام کے احیائے نو کی خاطر مسیح موعود کو کہاں کہاں سے کیسی کیسی پاک اور سعید رو میں علی ہیں جو محض اللہ اسلام کے غلبہ نو کے لئے تدبیریں سوچنے کے لئے قادیان کی دُور افتادہ بستی میں حاضر ہو گئیں۔ایسے رائے دہندگان کو ایک سہولت یہ بھی تھی کہ ایک نہایت زیرک اور صاحب بصیرت امام ان کے سامنے بیٹھا ہوا بڑی توجہ سے ان کے مافی الضمیر کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا اور جہاں کبھی سامعین ان کو سمجھنے میں غلطی کرتے نہایت فصاحت اور بلاغت اور روانی کے ساتھ اپنے الفاظ میں ان کے منشاء کو اس طرح ظاہر کر دیتا کہ ایک طرف تو سننے والے خوب اچھی طرح اس بات کو سمجھ جاتے دوسری طرف کہنے والے کے چہرے پر امتنان اور مسرت کے جذبات انڈ آتے کہ ہاں میں جو کچھ بیان کرنا چاہتا تھا وہ یہی کچھ تھا۔مختلف اہم مسائل پر بحث کے دوران کبھی حضرت خلیفتہ ایسے اسلام کے مستقبل کے تصور میں منہمک ہو جاتے اور دل اس فکر سے بے چین ہو جاتا کہ آنے والی نسلوں پر جو ذمہ داریاں عائد ہونے والی ہیں وہ انہیں کما حقہ نبھا بھی سکیں گی یا نہیں۔مشاورت کے دوران آپ کے متعدد خطبات ہمیں اسی فکر اور درد کے آئینہ دار دکھائی دیتے ہیں۔ایسے مواقع پر آپ کے خطابات کا رنگ ایک خاص شان اپنے اندر رکھتا تھا۔دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی آواز نوائے آسمانی معلوم ہوتی تھی اور فضا برقی لہروی سے بھر جاتی تھی۔دل خدمت اسلام کے لئے نئی امنگوں اور نئے ولولوں سے معمور ہو کر مچلنے لگتے اور بے اختیار تمام حاضرین کبھی زبان حال اور کبھی زبان قال سے میکار اُٹھتے کہ ہاں ! ہمارے آقا ! ہم حاضر ہیں۔ہم حاضر ہماری نسلیں حاضر ہیں۔ہماری جانیں ہمارے اموال ہماری عزتیں سب کچھ جو ہم رکھتے ہیں ہمارا نہیں آپ کا ہے۔جس طرح آپ چاہیں دین اسلام کی قربان گاہوں کی نذر کر دیں۔اسلام کی زندگی اگر ہم سے ہماری جان اور مال اور عزتوں کا فدیہ مانگتی ہے تو جان اور مال اور عزتیں پیش ہیں۔اگر نسلاً بعد نسل مسلسل قربانی کا مطالبہ ہے تو خدا گواہ ہم قیامت تک اپنی نسلیں اسلام کی زندگی کی خاطر مرنے کے لئے پیش کرتے چلے جائیں گے۔