سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 205
۲۰۵ مجلس مشاورت کا پاکیزه و بیمثال ماحول جماعت احمدیہ کی مجلس شوری صرف اپنے تنظیمی ڈھانچے اور طریق کار کے لحاظ سے ہی دنیا کی دوسری ایسی مجالس سے مختلف نہیں بلکہ اس کی فضا اور ماحول بھی دنیوی مجالس سے اس درجہ مختلف ہیں کہ کوئی ظاہری نسبت نظر نہیں آتی۔جب تک کوئی شخص اس ماحول کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھے۔وہ اس کی کیفیت کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتا۔تاہم ذیل میں اسے لفظوں میں بیان کرنے کی کسی قدر کوشش کی جائے گی۔قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں۔بلکہ قومی تربیت سالما سال کی مسلسل عرقریزی اور بھر ٹوپر نگرانی کی محتاج ہوتی ہے۔مشاورت کے جس ماحول کا یکس نے ذکر کیا ہے اس کو قائم کرتے ہیں حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی سالہا سال کی شدید منت عرقریزی نگرانی اور پر خلوص دعاؤں کا بہت بڑا دخل ہے۔اس مشاورت کے گوشہ گوشہ پر جسے ہم آج دیکھ رہے ہیں۔حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے کردار اور شخصیت کی چھاپ ہے اور یہ پاکیزہ ماحول جو آج ہمیں نظر آرہا ہے اس کا ہر منظر آپ کی یاد دلوں میں تازہ کر دیتا ہے۔ایک پسماندہ ملک کے ایک پسماندہ علاقہ کے عوام کی تربیت کا کام آپ کو سونپا گیا اور وہ علاقہ دنیا کے کسی معیار کے اعتبار سے بھی مہذب اور متمدن کہلانے کا مستحق نہیں تھا۔بالخصوص پنجاب کی سر زمین تہذیب و تمدن کے لحاظ سے خود ہندوستان کے ہی دوسرے علاقوں میں پسماندہ مشہور تھی۔پس حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا کام ایک انتہائی مشکل کام تھا کیونکہ نہ صرف یہ کہ ایک پسماندہ غیر مہذب اور غیر متمدن اور غیر تعلیم یافتہ قوم کو آپ نے تہذیب و تمدن کے اعلیٰ اصول سکھانے اور ان پر کار بند کروانا تھا۔بلکہ اسلامی نظام مشاورت کی ایک ایسی حسین تصویر عمل کے سانچے میں ڈھالنی تھی۔جو دنیا کی تمام متمدن قوموں کے لئے قابل تقلید نمونہ بن جائے۔اور عمل کے اس میدان میں بھی اسلام کی تعلیم کی برتری دیگر ادیان اور نظریات پر ثابت ہو جائے۔یہ کام بہت مشکل تھا۔بسا اوقات بار بار کی انتہائی موثر تقاریر اور نصائح کے بعد بھی یہ بات مشاہدہ میں آتی کہ سامعین میں سے بعض یا تو بات سمجھتے ہی نہیں یا عادت سے مجبور ہو کہ پھر اس غلطی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔بار بار وہی غلطیاں کرتے اور ان کو سمجھانا پڑتا۔بار بار