سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 199

199 اسی طرح وقت کی قیمت کا احساس پیدا کرنے کے لئے بھی تربیت دی جاتی کہ جو بکتر ایک مرتبہ بیان ہو چکا ہے بعد میں آنے والا مقرر اُسے دُہرا کر وقت ضائع نہ کر ہے۔اگر کسی شخص کو رائے دیتے وقت کسی پہلو سے غیر محتاط پاتے یا اس میں انانیت کی بو دیکھتے یا شخصی دوستی کی بناء پر رہے دینے کا رحجان محسوس فرماتے تو کبھی نرمی اور کبھی سختی کو کام میں لا کر نمائندگان کے دل میں باریا اس تعلیم کو مزید گہرائی کے ساتھ اتارتے چلے جاتے کہ مشورہ محض اللہ ہونا چاہیئے اور کسی نفسانی محرک کو مشورہ میں راہ پانے کی مجال نہیں ہونی چاہیئے۔اس ماحول میں مشورہ کے بعد جب رائے شماری کی جاتی تو اکثر اوقات ممبران مسئلہ کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ ہو کہ بھاری اکثریت کے ساتھ ایک رائے پر متفق ہو جاتے۔ہاں کبھی کبھی تقسیم ایسی بھی ہوتی جو تقریبا برا بر ہوتی۔ہردو صورت میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ الا ماشاء اللہ اکثریت کی رائے کو بالعموم منظور فرمایا کرتے اور یہی طریق آج تک رائج ہے۔وہ لوگ جو جماعت احمدیہ کے اس روحانی نظام کو دنیا وی پیمانوں سے جانچتے ہیں اور اس امر پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر خلیفہ قیمت کو آراء کو رد کرنے کا آخری اختیار حاصل ہے تو ایسے مشورہ کا فائدہ ہی کیا اور اس طریق مشورہ کو محض ایک پر وہ سمجھتے ہیں جو گویا آمریت کو چھپائے ہوئے ہے۔ان کے لئے مجلس مشاورت جماعت احمدیہ کی کارروائیوں کا مطالعہ یقینا آنکھیں کھولنے کا باعث بن سکتا ہے۔وہ حیرت سے اس حقیقت کا مشاہدہ کریں گے کہ خلیفہ وقت 99 فیصدی سے زائد مرتبہ کثرت رائے کی تائید کرتا ہے اور جب کثرت رائے سے اختلاف کرتا ہے تو ایسے قومی دلائل اپنے موقف کی تائید میں پیش کرتا ہے کہ کثرت رائے ہی نہیں تمام مجلس بالاتفاق خلیفہ وقت کی رائے کی فضیلت کی قائل ہو جاتی ہے۔گویا یہ ایک ایسی مجلس مشاورت ہے جس کا آخری تیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو مشوروں کو قبول یا رو کرنے کا اختیار رکھنے والا عوامی نمائندوں کی آراء سے متفق ہو یا عوامی نمائندے بشرح قلب اس فیصلہ کرنے والے کے فیصلہ سے مطمئن ہوں دنیا سے پر وہ پر ایسے عظیم طوعی اتفاق نظر و فکر کی کوئی مثال نظر نہیں آسکتی۔مزید برآن تربیت یہ کی گئی ہے۔اور واقعہ اس طریق کار پر سو فیصد ہی عمل بھی ہے کہ جن دوستوں کی آراء کو کثرت رائے نے رد کر دیا ہو وہ آخری فیصلہ کے بعد عملدرآمد کے وقت اپنی رائے کو اتنی بھی اہمیت نہیں دیتے جو ر دی کی ٹوکری میں پھینکے ہوئے ایک کاغذ کے پرزے کو ہو سکتی ہے بلکہ بلا استثناء اپنی تمام استعدادوں کے ساتھ کثرت رائے کے اس فیصلہ پر بشرح صدر عمل پیرا ہو جاتے ہیں جیسے