سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 198
تاکہ دلوں پر یہ اثر نہ ہوتا کہ صدر انجمن احمدیہ نے بعض نہایت ہی مفید تجاویز کو بغیر غور و فکر کرنے کے یونسی رو کر دیا ہے اور اگر ان کے جواب کے بعد بھی کسی قسم کی کمزوری رہ جاتی تو جماعت کو غور کرنے کا موقعہ مل جاتا۔اور صدر انجمن کو صحیح مشورہ حاصل ہو جاتا۔۔۔۔۔۔وجودہ بیان کئے بغیر نہیں کہا جاسکتا کہ کس بناء پر انہوں نے تجاویز کو رو کیا ہے۔۔۔۔۔۔تجاویز کو رد کر دینا ہی کافی نہیں بلکہ ان کے رقہ لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ان کو رد کرنے کی وجوہ بھی بیان کریں اور در حقیقت اگر وہ غور کریں تو اُن کا اپنا فائدہ بھی اسی میں ہے اگر وہ محض تجاویز سُنا دیں اور ان کو رد کرنے کی وجوہ بیان نہ کریں تو لوگ کہیں گے کہ انتین والے کیسے کم عقل ہیں جن باتوں میں اپنی عزت اور نیک نامی ہے ان کو بھی وہ رو کر رہے ہیں۔پس انجمن کے ناظر اگر دنیا کی نگاہ میں کم عقل بننا نہیں چاہتے تو وہ تجاویز کو رو کرنے کے ساتھ ہی دلیل بھی دیا کریں تا لوگ سمجھ سکیں کہ محض قلیت تدبر سے نہیں بلکہ کسی معقولیت کی بناء پر اُن کو رد کیا گیا ہے ویسے فیصلوں کی منظوری کا طریق حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ آخری فیصلے پر پہنچنے سے قبل حاضرین مجلس کو ظہار رائے کی نہ صرف آزادی دیتے تھے بلکہ بعض اوقات ایسے دوستوں کو جو خاموش طبع ہوں اور پبلک میں خطاب سے جھجکتے ہوں لیکن صائب الرائے اور وقیع ہوں خود بلوا کر ا ظہار یہ ہائے کی ترغیب دیتے پھر اس بات کو بھی ملحوظ رکھتے تھے کہ کوئی اہم مشورہ میں شمولیت سے محروم نہ رہ جائے۔بعض اوقات دیہاتی نمائندوں کو خاص طور پہ بلو ا کر اُن کی آراد لیتے۔بعض اوقات شہری یا قصباتی نمائندوں کو کبھی تجانہ کو بلوایا جاتا۔کبھی اہل حرفت دوستوں کو، کبھی وکلاء کبھی ڈاکٹروں کبھی اساتذہ کو نام لے لے کر رائے دینے کی ترغیب دی جاتی۔پابندی اگر تھی تو صرف اتنی کہ اخلاق کی حدود سے کوئی تجاوز نہ کرے اور ذاتیات میں نہ انھے۔ے رپورٹ مجلس مشاورت ۶۱۹۲۵ ۱۵-۱۸