سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 197
196 موجود ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جتنے ممبران کے نام ٹکٹ جاری کئے گئے تھے وہ سارے کے سارے اجلاس میں موجود نہیں۔اور یہ افسوسناک امر ہے۔میرے نزدیک جو ممبران شورای اس وقت اجلاس میں حاضر نہیں ان کا پتہ لگایا جائے کہ وہ کون کون ہیں اور اُنہیں آئندہ کے لئے شوری کی ذمہ داری سے سبکدوش کر دیا جائے۔وہ گھر سے شوری میں شامل ہونے کے لئے آئے ہیں لیکن اجلاس میں وہ حاضر نہیں ہوئے۔میں بیماری کے با وجو د شورای میں شامل ہونے کیلئے نتومیل رحضور ان دنوں محلہ میں قیام فرما تھے ، سے چل کر یہاں آیا ہوں اور یہ لوگ ربوہ میں موجود ہونے کے باوجود یہاں حاضر 2 نہیں ہوئے کیا ہے مجلس شوری کے ایجنڈے کی ترتیب اور رو شدہ تجاویز مجلس مشاورت میں جو اینڈ ا پیش ہوتا ہے اس کی ترتیب کے متعلق حضور نے جو طریق کا مقرر فرمایا وہ یہ ہے کہ مختلف جماعتیں یا افراد اپنی تجاویز جو وہ مناسب سمجھیں حسب قواعد دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں ارسال کر دیتے ہیں یہ تجاویز پرائیویٹ سیکرٹری صاحب صدر آئین احمدیہ میں بھجوا دیتے ہیں۔صدر انجمن احمد یہ ان تجاویز پر غور کر کے اپنی رائے کے ساتھ انہیں سید نا حضرت خلیفہ ایسیج کی خدمت میں پیش کرتی ہے کہ اس کے نزدیک کونسی تجاویزہ اس سال کی مجلس شوری میں پیش کرنے کے لائق ہیں اور کون سی قابل رو ہیں۔یہ لہر شدہ تجاویز شوی کے اجلاس میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تا کہ نمائندگان کو معلوم ہو کہ اس سال کس نوعیت کی تجاویز جماعتوں نے ارسال کی تھیں اور کون سی تجاویز کو صدر انجین احمدیہ نے شوری میں پیش کرنے کی رائے نہیں دی سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس طریق کار کے سلسلہ میں صدر انجمن احمدیہ کو یہ ہدایت فرمائی کہ جن متجاویز کو صدر انجین احمدیہ نے کہ وہ کر دیا ہے مناسب یہ تھا، کہ صدر امین احمدیہ ان کو رد کرنے کی وجوہ بھی ساتھ ہی بیان کر دیتی ہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۱۹۵۰ ۳۲۰