سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 196

194 بعض دفعہ تو ان کی رائے نہایت ہی مضحکہ خیز ہو گی جس سے ہم یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ فلاں فلاں معاملہ میں عورتوں کو حالات کا بالکل علم نہیں اور بعض دفعہ ان کی رائے بہت اعلیٰ ہوگی جس سے ہم بیاندازہ لگا سکیں گے کہ فلاں فلاں معاملہ میں عورتوں کا علم زیادہ پختہ ہے۔تو ان کی آراء پڑھے جانے پر ہماری جماعت کے دوست ساتھ ساتھ یہ موازنہ بھی کرتے چلے جائیں گے کہ ہماری عورتوں کی دماغی اور ذہنی ترقی کس طرح ہو رہی ہے اور بعض دفعہ یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ یہ دیکھ کر کہ عور توں کی فلاں معاملہ میں جو ان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے یہ رائے ہے وہ ان کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے بدل لیں اور ان کے حق میں فیصلہ کر دیں کاشف حاضری کا معیار جماعت احمدیہ کی مجلس شوری کے ممبران سے جو توقعات وابستہ ہیں ان کا معیار اتنا بلند ہے کہ دنیا کے کسی بھی ہم شکل ادارہ میں انفرادی طور پر ممبران کے اخلاق و آداب اور نظم و ضبط کے بارہ میں ایسی بلند توقعات تو درکنارہ اس کا عشر عشیر بھی پیش نظر نہیں رکھا جا سکتا۔مجلس مشاورت کے کورم کو ہی لیجئے۔توقع یہ کی جاتی ہے کہ سو فیصد نمائندگان حاضر ہوں اور مسلسل حاضر رہیں اور وقت کی پابندی اتنی ہو کہ خلیفہ وقت یا ان کے نمائندہ کے آنے سے قبل تمام نمائندگان اپنی اپنی نشستوں پر موجود ہوں۔نیکم و ضبط کی عادت اور حاضری کا یہ بلند معیار بھی بلاشبہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی عظیم الشان تربیت کا مرہونِ منت ہے۔نا ہے۔آپ نے ابتداء ہی سے ایسے خطوط پر مجلس مشاورت کو چلایا کہ نظم و ضبط اور حاضری کا اعلیٰ معیار گویا اس مجلس کی فطرت ثانیہ بن گیا۔حاضری کی ایسی تعداد جو دنیا کی کسی دوسری مجلس میں قابل فخر بھی جاسکتی ہے آپ کے نزدیک قابل افسوس شمار ہوتی تھی ایک موقع پر حاضری کی کمی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :۔۔نکل ۴۳۲ نمائندہ سے مجلس میں شامل ہیں اور اس وقت صرف ۱۱م دوست 114-116 ماہ رپورٹ مجلس مشاورت له ما - ۱۱۸