سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 195

140 جہاں لجنہ اماءاللہ قائم ہیں وہ اپنی لجنہ رجسٹرڈ کرائیں بیسی میرس، دفتر سے اپنی بجند کی منظوری حاصل کر نہیں۔ان کو جنہیں میری اجازت سے منظور کیا جائے گا مجلس مشاورت کا ایجنڈا بھیج دیا جائے وہ رائے مکہ پرائیویٹ سیکرٹری کے پاس بھیج دیں۔میں جب ان امور پر فیصلہ کرنے لگوں گا تو ان آراء کو بھی مد نظر رکھ لیا کروں گا۔اس طرح عورتوں اور مردوں کے جمع ہونے کا جھگڑا بھی پیدا نہ ہوگا اور مجھے بھی پتہ لگ جائے گا کہ عورت میں مشورہ دینے میں کہاں تک مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔اُن کی رائیں فیصلہ کرتے وقت مجلس میں سُنادی جائیگی است ۹۴ارہ تک اسی طریق پر عمل ہوتا رہا۔لیکن جب آپ نے اس طریق میں کئی نقص محسوس کئے تو اللہ کی مجلس شوری میں اس میں تبدیلی کرتے ہوئے حسب ذیل فیصلہ فرمایا :۔ایک ضروری بات میں لجنہ کی نمائندگی کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں ہر سال مجنہ سے رائے لی جاتی ہے اور ہر سال اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے اور کبھی اُسے مجلس شوری میں پیش نہیں کیا جاتا۔میری تجویز یہ ہے کہ آئندہ مجلس شوری میں ایک لجنہ اماءاللہ کا نمائندہ بھی ہوا کرے۔اور بیرونی جماعتوں کی لجنات سے جو تجاویز پرائیویٹ سیکرٹری کو موصول ہوں وہ سب دفتر پرائیویٹ سیکرٹری نجنہ کے اس نمائندے کو پہنچا دیا کرے۔اس نمائند ے کا یہ فرض ہوگا کہ وہ ہر موقع پر جنات کی رائے بھی پیش کرتا چلا جائے اور بتائے کہ فلاں لجنہ کی اس کے متعلق یہ رائے ہے اور فلاں کی یہ رائے۔اس طرح نہ صرف ان کی آراء کا پتہ لگ جائے گا بلکہ ممکن ہے کہ بعض دفعہ کوئی لطیف اور مفید بات بھی معلوم ہو جائے۔اور اگر اس طریق کا کوئی اور فائدہ نہ بھی ہوا تو بھی کم سے کم اس طرح یہ پتہ لگتا رہے گا کہ ہماری جماعت کی مستورات کی دینی ترقی کا کیا حال ہے جب ان کی آراء پڑھی جائیں گی تو اس وقت معلوم ہوگا کہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ئه ص۱۲۷