سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 184
۱۸۴ بات کے حق میں رائے دینی چاہیئے جس میں دینی فائدہ زیادہ ہو۔۱۱۔ہمیشہ یہ بات مد نظر رکھنی چاہیئے کہ ہماری تجاویز نہ صرف غلط نہ ہوں بلکہ یہ بھی تو نظر رہے کہ جن کے مقابلے میں ہم کھڑے ہیں اُن کی تجاویز سے بڑھ کر اور مؤثر ہوں اور ہمارا کام ایسا ہونا چاہیئے کہ دشمن کے کام سے مضبوط ہو۔مثلاً اگر ایسی جگہ ایک مکان بناتے ہیں جہاں پانی کی رو نہیں آتی وہ اگر زیادہ مضبوط نہیں تو خیر لیکن جہاں زور کی کو آتی ہو، وہاں اگر مضبوط نہیں بنائیں گے تو غلطی ہوگی۔پس ہماری مجلس شوری میں یہی نہیں ہونا چاہیے کہ اس میں غلطی نہ ہو بلکہ یہ بھی ہو کہ ایسی اعلیٰ اور زبر دست نتجاویز ہوں جو دشمن کا مقابلہ کر سکیں۔پھر ایک تو یہ بات ہے کہ دشمنوں کے مقابلہ سے ہماری کوششیں اور تجاویز اعلیٰ ہوئی۔دوسری یہ کہ ہماری تجاویز ہماری پچھلی تجاویز سے اعلیٰ ہوں۔ان دونوں باتوں کو بھولنے سے قومیں منزل میں پڑ جاتی ہیں۔ان میں سے اگر ایک کو چھوڑ دیں تو بھی تنزل شروع ہو جاتا ہے ۱۲۔رائے دیتے وقت یہ بات دیکھ لینی چاہیے کہ جو بات پیش ہے وہ واقعہ میں مفید ہے یا مضر - مقابلہ میں آکر کسی معمولی سی بات پر بحث شروع ہو جاتی ہے حالانکہ اس کا اصل بات کے مضر یا مفید ہونے سے تعلق نہیں ہوتا۔پس فروعی باتوں پر بحث نہ شروع کرنی چاہیے بلکہ واقعہ کو دیکھنا چاہئیے کہ مفید ہے یا مضر ۱۳ - سوائے کسی خاص بات کے یونہی دہرانے کے لئے کھڑا نہ ہو۔ضروری نہیں کہ ہر شخص بولے۔ہاں اگر نئی تجویز ہو تو پیش کرکے -۱۴ چاہئیے کہ ہر ایک اپنا وقت بھی بچائے اور دوسروں کا وقت بھی ضائع نہ کرے۔مشورے اور اس کے اثر کی وضاحت کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :-