سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 159
109 جذبات وقتی طور پر دب جانے کے باوجود ہر حال غالب آئیں گے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی اس تشریح سے اُس شکایت کنندہ کا دل مطمئن ہو گیا اور اس باریک نکتہ کو وہ سمجھ گیا کہ کیوں محض حلیم کہنے کی بجائے آپ کو دل کا حلیم کہا گیا ہے آپ جب بھی ناراض ہوتے انصاف کے تقاضوں اور جماعتی ذمہ داریوں اور فرائض کے پیش نظر ہمیشہ لومة لائم سے بے نیاز اپنا فرض ادا فرماتے۔نہ رشتے کی کوئی پرواہ ہوتی اور نہ تعلقات کا کوئی خیال محض اللہ تعالے کا تقویٰ پیش نظر ہوتا۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے جس فریضہ کی ادائیگی آپ کو کرنی تھی۔وہ بہر حال کی جانی تھی۔مگر آپ کی گرفت دل کی سختی کے نتیجہ میں نہیں بلکہ فرض شناسی کے نتیجہ میں حالات کے تقاضوں کے مطابق ہوا کرتی اور جہاں تک دل کا تعلق ہے آپ اس سختی کی تکلیف کو جو مجبورا کرنی پڑتی خود بھی محسوس فرماتے اور دکھ اُٹھانے والے کے ساتھ خود بھی دکھ اُٹھاتے۔یہی وجہ ہے کہ ادائیگی فرض کے بعد آپ متعلقہ کا رکن سے ہی نہیں بلکہ بعض صورتوں میں اس کے سارے خاندان سے انتہائی مشفقانہ سلوک کرتے اور ان کی دلداری فرمایا کرتے۔بحیثیت منتظم اعلیٰ منتظمین اور دفاتر کے عملہ سے آپ کا تعلق محض افسر ماتحت کے رسمی رشتے تک محدود نہ تھا بلکہ اصل تعلق روحانی تھا اور یہی تعلق غالب اور قومی تر تھا لہذا آپ کی ناراضگی پر کارکنان کی بے چینی اور بے قراری اس بناء پر نہ ہوتی کہ کسی دنیاوی منفعت سے محروم کئے جارہے ہیں۔بلکہ اس بناء پر ہوتی کہ اپنے روحانی پیشوا کی نظر لطف و عنایت سے محروم ہو رہے ہیں۔اسی وجہ سے وہ سخت بے قراری محسوس کرتے اور جس طرح بن پڑتا اپنے عمل سے تلافی مافات کی کوشش کرتے۔