سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 158

10A معاملات میں خود دروازے پر جا کر بالمشافہ گفتگو فرمانا حضور کی عادت تھی۔کسی ناظر یا کارکن کی غفلت سے اگر کسی فرد جماعت کی دل آزاری ہو۔یا جماعتی مفاد کو نقصان پہنچا ہو تو حضور نہایت سختی سے متعلقہ کا رکن کا محاسبہ فرماتے اور بعض اوقات اس جلال کے ساتھ تنبیہ فرماتے کہ شخص مذکور کی کائنات پر گویا زلزلہ سا آجاتا۔بعض کارکنان اس کے نتیجہ میں نہایت طول اور نڈھال ہو جاتے لیکن ان سب کی تربیت ایسے عمدہ رنگ میں کی گئی تھی اور ایسا اعلیٰ درجہ کا اخلاص ان میں پایا جاتا تھا کہ اپنے قصور پر استغفار کرتے لیکن حضرت صاحب کے ساتھ محبت اور وفا اور اطاعت کے تعلق میں سر مو فرق نہ آتا۔جن کارکنوں کی گرفت ہوتی وہ دوسرے تمام کارکنوں کے لئے نصیحت بن جاتے۔اور ایسے کسی واقعہ کے بعد ایک عرصہ تک انتظامیہ نہایت مستعدی اور احتیاط سے کام کرتی رہتی بعض اوقات بعد کی تحقیق سے ثابت ہو جاتا کہ جس کا رکن کے خلاف شکایت تھی اس کا کوئی قصور نہ تھا۔ایسی صورت میں دوہرے التفات کے ساتھ آپ اس کی دلجوئی کرتے اور وہ ایسی خوشی محسوس کرتا گویا اُسے کبھی آپ کی ناراضگی کا صدمہ نہیں پہنچا تھا۔کارکنان میں بعض ایسے بھی تھے جنہیں صف اول کے کارکنان کا ساصبرو رضا کا ارفع مقام حاصل نہ تھا بعض ایسے ہی کبیدہ خاطر کارکنان اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے سامنے دل کا غبار نکال لیتے اور آپ مختلف رنگ میں اُن کی تسلی اور تشفی فرمانے کے علاوہ نہایت قیمتی مشوروں سے ان کی رہنمائی بھی فرماتے اور انہیں سمجھاتے کہ ان کے قصور کی نوعیت کیا ہے اور کسی طرح اس کا ازالہ ہونا چاہیے اور از سر تو حضور کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہے۔ایک مرتبہ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہ حضور بعض اوقات انتظامی کوتاہیوں پر بڑی سخت گرفت کرتے ہیں کیسی دوست نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے پوچھا کہ الہام الہی میں تو حضرت صاحب کو دل کا حلیم قرار دیا گیا ہے لیکن آپ تو بعض دفعہ بڑے جلال کا مظاہرہ کرتے ہیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے برجستہ جواب دیا کہ حلیم نہیں بلکہ دل کا حلیم فرمایا ہے۔جس میں اشارہ اس طرف ہے کہ بعض اوقات وہ بظاہر سختی بھی کرے گا لیکن عفو اور علم کے