سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 144
۱۴۴ اسی لئے کمپنیاں بنا کر تجارت کرنا ہی تجارت کا کامیاب طریق ہے۔میر محمد اسحق صاحب جو بڑے ذہین آدمی تھے ایک دفعہ بمبئی کے بڑے بڑے بوہرہ تاجروں سے ملے۔وہ مذہبا شیعہ ہیں۔مگر تجارت میں اُن کو بڑا غلبہ حاصل ہے۔ان سے پوچھا کہ تم لوگوں کو جو طاقت حاصل ہے اس کی وجہ کیا ہے اور وہ کونسا گر ہے جو تمہاری اس ترقی کا باعث ہے انہوں نے کہا ہم نے اپنی جتھہ بندی اس رنگ میں کی ہوئی ہے کہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔مثلاً ہم میں سے ایک شخص کا دیوالیہ نکل جائے تو جب ہمیں اس کا علم ہوتا ہے تو ہم اُسے بلا کر کہتے ہیں آج سے ہم فلاں چیز اپنی تمہیں دیتے ہیں اس کی تجارت کرو۔جب ہمارے پاس کوئی تھا یک آئے گا تو ہم اسے تمہارے پاس بھیجوا دیا کریں گے چنانچہ کسیٹی بیٹھتی ہے اور فیصلہ کر دیتی ہے کہ آج سے کسی بوہرے نے تیل یا صابن یا ماچس فروخت نہیں کرنا۔وہ ہول سیل تاجر ہیں۔اس وجہ سے چند دن یا چند ہفتوں میں ہی لاکھ دو لاکھ روپیہ وہ کما لیتا ہے یہ لے نظارت ضیافت فرمایا۔یہ وہ کام ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود کرتے رہے اور آپ نے اسے سلسلہ کا بہت اہم کام قرار دیا۔اگر دوسرے کام مجھے اجازت دیتے اور لوگ اعتراض نہ کرتے کہ خلیفہ روپیہ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے تو وہ کام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود کرتے رہے ہیں خود اسے اپنے ہاتھ میں رکھتا یہ کام اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ہر طبقہ کے اور ہر قسم کے لوگ یہاں آتے ہیں۔اُن سے ملاقات اور ان کے لئے ہ رپورٹ مجلس مشاورت ۶۱۹۵۷ ۲۶۰ تا ۴۲