سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 140
۱۴۰ شیخ کیا ہیں۔خدا سے کیا تعلق ہوتا ہے کس طرح محسوس کرے کہ خدا سے اُسے تعلق ہو گیا۔یہ باتیں تعلیم و تربیت سے تعلق رکھتی ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ نہ صرف ان سے ناواقف ہیں بلکہ ان میں سوال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ ان باتوں کے حاصل کرنے کا کوئی انتظام ہونا چاہیئے۔قادیان کے سنجیدہ لوگوں سے میں نے سُنا ہے کہ ان صیغوں کی کیا ضرورت ہے۔تو کام کرنا تو الگ رہا ان کے متعلق سوال بھی نہیں پیدا ہوتا کہ ایسا ہونا چاہیئے۔اس کے لئے بڑی جد وجہد کی ضرورت ہے۔پھر یہ ہمیں موجودہ نسل ہی کی اصلاح نہیں بلکہ یہ بھی کرتا ہے کہ آئندہ نسلوں کی حفاظت کا بھی اتنظام کریں۔لیکن اگر سلسلہ کا انتظام اعلیٰ چٹان پر قائم نہیں تو اگر آج نہیں تو کل اس کی موت ہو جائے گی۔پھر ہماری جماعت کا فائدہ کیا ہوا۔جس طرح آئیڈیل مکین (یعنی مثالی انسان۔ناقل ) کہنے ہیں اسی طرح چاہیئے کہ ہم آئیڈیل مسلم بنائیں اور یہ کوشش کریں کہ ہر ایک احمدی ایسا ہو۔اور جو آئندہ پیدا ہو۔وہ بھی ایسا ہی ہو بلکہ یہ کہ آئندہ نسلیں بڑھ کر ہوں۔کیونکہ اگر اگلی نسل میں ترقی نہ ہو تو تنزل شروع ہو جاتا ہے۔اس وقت میں چند موٹی موٹی باتیں بتاتا ہوں۔ان کو یاد رکھو۔بعض لوگ تمسخر مین قرآن کی آیتیں پڑھ دیتے ہیں یا دوسرے کہہ دیتے ہیں یہ مولوی جو ہوئے ایسی باتیں کر دیتے ہیں گویا دین کی وقعت بٹھانے کی بجائے بُرا اثر ڈالا جاتا ہے اور آئندہ نسلوں پر اس کا بُرا اثر ہونا لازمی ہے۔اس قسم کی باتوں کا اس قدر اثر ہوتا ہے کہ مجھے اپنے بچے کو مارنا بھی پڑا۔ایک بھائی نے ہنسی کی دوسرے بھائی پر کہ تو مولوی ہے کہ قرآن حفظ کرتا ہے۔میں نے اس کو مدرسہ انگریزی میں داخل کیا تھا اس سے پہلے اس نے کبھی یہ نہ کہا تھا اس لئے معلوم ہوا کہ مدرسہ سے ایسا خیال اس کے دل میں پیدا ہوا اس پر