سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 138
۱۳۸ جھ سکتی ہوں گی اور جب نماز نہیں پڑھ سکتیں تو مسلمان کس طرح ہو سکتی ہیں اور وہ غرض کس طرح قائم رہ سکتی ہے جو اس سلسلہ کی ہے جبکہ یہ حالت ہے نماز کوئی ٹونہ نہیں بلکہ با ترجمہ آنی چاہیئے۔کیونکہ جو ترجمہ نہیں جانتا وہ مجھ کہاں سکتا ہے اور معارف پر غور کہاں کر سکتا ہے اور جسے یہ بات حاصل نہیں وہ خدا سے تعلق کس طرح پیدا کر سکتا ہے اس کے بغیر تو یہ ناٹک ہے کہ تماشا کے طور پر ادا کی جاوے۔ہم جلسے اور انجمنیں کرتے ہیں۔مگر کیا نہیں اسی لئے آتے ہیں۔یہ تو اور لوگ بھی کر لیتے ہیں ہماری غرض اسی وقت پوری ہو سکتی ہے جب ہمارا ایک ایک مرد ایک ایک بچہ اور ایک ایک عورت اس قدر واقفیت دین سے رکھے جو مسلمان بننے کے لئے ضروری ہے۔جب تک ایسا نہ ہو تب تک ترقی نہیں ہو سکتی سوائے اس کے کہ بعض خاص آدمی اپنی ریاضت سے آگے نکل جائیں۔مگر جماعتیں اسی لئے بنائی جاتی ہیں۔کہ سارے مل کر ترقی کریں۔اگر ساری جماعت ترقی نہ کرے تو پھر کیا ضرورت ہے چندہ جمع کرنے کی۔اور کیا ضرورت ہے کا نفرنس اور جلسوں کی۔تو تعلیم و تربیت سے یہ مراد ہے کہ ہر احمدی کو ظاہری علوم کا اتنا حصہ سکھا دیا جاوے کہ اُسے که بر علوم کاما سال ها ، آئندہ ترقی کی بنیاد قرار دے سکیں۔۔۔۔۔۔۔دوسری چیز اس سے اوپر اخلاقی تربیت تھی۔۔۔۔۔۔تبلیغ کے رستہ میں بھی اتنی روکیں نہیں جتنی تربیت کے رستہ میں ہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا سچا ہونا چونکہ احمدی خود سمجھتے ہیں اس لئے دوسروں کو سمجھا سکتے ہیں لیکن اخلاق سے چونکہ خود واقف نہیں اس لئے دوسروں کو سکھلا نہیں سکتے۔اور موٹی موٹی باتیں مثلاً غیبت بد اخلاقی کیا ہوتی ہے یہ بھی نہیں جانتے اور مذاق اس قدر بگڑا ہوا ہے کہ اول تو اخلاق سکھانا ضروری