سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 132

۱۳۲ پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔ان کے کارکنوں کا فرض ہے کہ ضرورت کے مطابق رویہ ہم پہنچائیں۔البتہ ایسی حکمت و ترکیب سے وصول کریں، کہ افراد تباہ و برباد نہ ہوں۔کیونکہ جماعتیں افراد سے ہی بنتی ہیں اور وہ حکومتیں جو افراد کو برباد کر دیتی ہیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں پہلے نظارت تعلیم نظارت تعلیم ایک ایسی نظارت تھی جس کے کام کا ایک حصہ پہلے ہی صد را تخمین احمدیہ کے سپرد تھا اور تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کا انتظام پہلے سے ہی صدر انجین احمدیہ کے زیر نگرانی تھا۔آپ نے صدر انجمن کی اس علیحدہ حیثیت کو برقرار رکھا اور نئی نظار تعلیم کے سپر د حسب ذیل نئے کام کئے۔آپ نے فرمایا :- اس صیغہ کے ذمہ یہ کام ہوگا کہ جماعت کے لڑکوں کی فہرستیں تیار کرائے اور معلوم کرے کہ مثلاً زید کے تین لڑکے ہیں ان کی تعلیم کا کوئی انتظام ہے یا نہیں اور وہ دینی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں یا نہیں۔اگر معلوم ہو کہ نہیں تو اُسے لکھتا اور سمجھایا جائے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کا انتظام کرے۔ایسے لوگ خواہ کہیں رہتے ہوں ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی نگرانی یہ صیغہ کرے گا اور ممکن سہولتیں مہیا کرنا اس کا فرض ہوگا اس طرح تمام جماعت کے بچوں پر اس صیفہ کی نظر ہوگی پھر شخص فوت ہو جائے گا اس کی اولاد کے متعلق یہ دیکھا جائے گا کہ اس کی تعلیم و تربیت کا کیا انتظام ہے۔اس کے رشتہ داروں نے کچھ کیا ہے یا نہیں۔اگر کیا ہے تو وہ تسلی بخش ہے یا نہیں اور کس قدر امداد دینے کی ضرورت ہے یہ نیز فرمایا۔اس صیفہ کی ذمہ داری جماعت کے عام افراد کو ایسے مسائل سے واقف کرانا بھی ہے جس کے بغیر کوئی مسلمان، عرفان التی تقریر جلاس سالانه ۹۱اء ما تا ۸۰