سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 103
۱۰۳ بندوں کے جو مخالف ہوں گے ان کو تباہ و برباد کروں گا اور انہیں کامیاب کروں گا۔پس اگر کسی انسان کے متعلق یہ باتیں بھی ثابت ہو جائیں تو خدا تعالے کی ہستی کی یہ ایک دلیل سمجھنی چاہئیے۔سکھ۔ایسی باتیں بائی چانس (اتفاقاً ، ہو جاتی ہیں۔سردار صاحب کا یہ جواب سن کر اگرچہ بے اختیار سر تھام لینے کو جی چاہتا ہے لیکن حضرت صاحب اس جواب کو شنکر مایوس نہیں ہوئے اور پہلے مضمون کو زیادہ وضاحت سے بیان کرتے ہوئے ان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جن امور کو آپ پیش کریں گے ، اُن پر بائی چانس کا فتویٰ صادر نہیں ہو سکتا۔آپ نے فرمایا :- جو بات تواتر سے ثابت ہو اسے بائی چانس نہیں کیا جاسکتا مثلاً آگ جلاتی ہے اس لئے جہاں بھی اور جب بھی اس میں کوئی ہاتھ ڈالے گا جلائے گی۔اگر کسی کا ہاتھ جل جائے تو یہ نہیں کہا جائیگا کہ آگ نے بائی چانس جلا دیا ہے۔اسی طرح خدا تعالے قاعدہ کلیہ کے طور پر بیان فرماتا ہے۔کہ مجھ سے تعلق رکھنے والے ہمیشہ ایسے ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جن پر میں اپنی قدرت نمائی کرتا ہوں اس لئے اُسے بائی چانس نہیں کہا جاسکتا۔اگر اسلام ایسے انسان پیدا کر دے کہ اُن کا خدا سے تعلق پیدا ہو اور وہ لوگوں کو ایسی باتیں بتائیں جن میں خدائی قدرت اور حیرت پائی جائے تو ماننا پڑے گا کہ کوئی ایسی زبر دست مہستی ہے جو علیم ہے کلیم ہے قادر و مقتدر اور متعرف بالا راده سمیع و بصیر ہے اور جس کا پتہ اسلام کے ذریعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔اسلام نے اس زمانہ میں ایک شخص پیدا کیا ہے اُس نے آکر کہا کہ جس طرح قرآن شریف کہتا ہے اسی طرح کا میں نے اُسے پایا ہے کوئی کہے یہ انسان یونہی کہتا ہے ثبوت کیا تو اس کا ثبوت یہ ہے کہ اُس نے دعوی کیا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ جو تیرا مقابلہ کرے گا وہ ذلیل اور