سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 97

94 ہزار روپیہ تک انعام رکھا اور تمام دنیا کے لوگوں کو چیلینج دیا کہ آن کے مقابلہ پر لکھیں لیکن کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔آپ نے نہ کسی عربی مدرسہ میں پڑھا نہ آپ کبھی عرب میں گئے۔نہ آپ نے کسی مشہور معروف استاد سے تعلیم حاصل کی۔لیکن باوجود اس کے آپ نے تمام دنیا کے عربی دانوں کو چیلنج دیا لیکن کسی نے قبول نہ کیا۔یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو یہ اعتراض کیا جاتا تھا کہ آپ جب پڑھے ہوئے نہیں تھے تو پھر قرآن کس طرح بنا لیا۔قرآن کریم کسی انجمن نے مل کر بنایا ہے وہ اعتراض غلط تھا۔اب بھی ایک شخص نے جو ایک لحاظ سے ناخواندہ تھا۔اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت کے ساتھ بے مثل کتاب لکھ کر ثابت کر دیا کہ جب خدا تعالیٰ پہنجا اور استاد ہو تو ایک امتی کی زبان پر بے مثل کلام کا جباری ہونا ہرگز ناقابل قبول امر نہیں۔حضرت مرزا صاحب پر کفر کے فتوے دینے والے اب بھی مہندستان میں موجود ہیں۔وہ اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ آپ نے کسی عربی مدرسہ میں تعلیم نہیں پائی۔آپ کبھی عرب ممالک میں نہیں گئے آپ کی مادری زبان عربی نہ تھی مگر با وجود اس کے آپ نے عربوں اور تمام دنیا کے عربی دانوں کو چیلنج دیا۔جسے قبول کرنے کی جرات کسی کو نہ ہوئی۔المنار کا ایڈیٹر مقابلہ پر تو کچھ نہ لکھ سکا۔ہاں دیکھ دیا کہ آپ کی کتب میں بہت سی غلطیاں پائی جاتی ہیں۔لیکن جب اُسے جواب دیا گیا اور پیلینج کیا گیا تو پھر ایسا نادم اور شرمند ہوا کہ کچھ بول نہ سکا اور مقابلہ سے دل میرا گیا۔پروفیسر صاحب نے یہ شنکر غالبا یہ سوچتے ہوئے کہ کیوں نہ اس چیلنج کو قبول کر لیا جائے یہ بڑا معقول سوال کیا :- اگر کوئی اس چیلنج کو قبول کرے تو فیصلہ کون کرے گا۔حضرت صاحب نے جواباً فرمایا :