سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 79

(۵) مولوی عطا محمد صاحب - 69 (4) نیک محمد خانصاحب غزنوی (مهاجر افغانستان ) بعد میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو بھی شملہ بلوا لیا گیا۔حضرت خلیفہ ایسیح الثانی کے ساتھ جماعت کو جو محبت اور پیار کا تعلق تھا اس کا کسی حد تک اندازہ اس سفر کی روئداد پڑھنے سے لگایا جاسکتا ہے۔آپ کے سفری کے بارہ میں لکھنے والے خاص محبت کے جذبات میں ڈوب کر قلم اُٹھاتے تھے۔سفر کا پہلا اعلان اس شعر سے کیا گیا ہے شاد باش اے کو ہ شملہ شادزی فضل " سویت میهمان آید ہے اس کے بعد قادیان سے روانگی کے وقت آپ کی الوداعی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے محترم قاضی الحمل صاحب نائب مدیر الفضل نے جس انداز میں اس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے اس سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ جماعت کا آپ سے تعلق صرف انتظامی رنگ میں مطاع اور مطبع کا نہ تھا بلکہ عاشق اور محبوب کا تعلق تھا۔مکرم قاضی صاحب کا یہ مختصر نوٹ من وعن پیش ہے۔وہ رات جس کی صبح ، احباب شملہ مجھے معاف فرمائیں گے ہمارے لئے شام فراق لانے والی تھی حضور کی ایک تقریر دلپذیر کی وجہ سے جو بعد از نماز مغرب فرمائی دارالامان میں رہنے والے احباب کو بالخصوص یاد رہے گی۔سامان کتابت پاس نہیں تھا۔عزیز عطا کی عطا اور کچھ اپنے جیب و داماں کے پرزے کام آئے۔گیارھویں کا چاند بلکے ابر کی نقاب ڈالے عالم بانا کے جھروکے سے زمین قدس کے بدر و نجوم ایک ہی برج میں ہم دیکھ رہا تھا۔اس کی چاندنی میں صرف پنسل کی حرکت صفحہ قرطاس پر نظر آسکتی تھی۔گلچین بہار کو دامان تنگ کا گلہ ہونے کے علاوہ یہ مشکلات تھیں۔مگر پھر بھی وہ ایک دستنبو تیار کر سکا جو پیشکش محفل مودت منزل احباب دومی الالباب ہے۔(الحمل) جس تقریر کا قاضی صاحب نے ذکر فرمایا ہے۔یہ اہل قادیان کے لئے خصوصا اور جماعت احمدیہ کے لئے عموما نہایت قیمتی نصائح پر مشتمل تھی اور حضرت صاحب کے کردار