سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 3
نے اس با ہمت نوجوان کو وہ جماعت بھی بخشی جو نفاق اور تباغض سے پاک تھی، ہے اور رہے گی دانشاء اللہ) اس میں جذب اور بہت اور استقلال کے حامل اور قرآن و حدیث کے ایسے عاشق با عمل پیدا کئے جو دعاؤں کا سہارا لیتے ہوئے خطرناک سے خطرناک ابتلاؤں میں بھی ثابت قدم رہے ، اور ان کے پائے ثبات و استقلال میں کبھی کوئی لغزش نہ آئی اور صدق و وفا بڑھتا ہی رہا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا مسند خلافت پر متمکن ہونا گویا آپ کی زندگی میں ایک خلق آخر کا مقام رکھتا تھا۔اور ایک نئی حیثیت سے ایک نئے خلعت کے ساتھ آپ جماعت احمدیہ اور دنیا کے سامنے ظاہر ہوئے۔اس موقعہ پر ذہن اس خلق اول کی طرف پھر رجوع کرتا ہے جبکہ آپ کی پیدائش سے قبل آپ کے دش نے بڑی تعلی کے ساتھ آپ کے بچپن ہی میں ہلاک ہو جانے اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے تنباہ ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔اس خلق آخر کے دوران بھی کم و بیش ویسی ہی صورت پیدا ہوئی اور آپ کے ذاتی مخالفین اور معاندین نے بڑی شدت کے ساتھ یہ دعوے کئے کہ یہ خلافت چند دن کی مہمان ہے جلد ہی صفحہ ہستی سے مٹ کو نیا مستیا ہو جائے گی اور ساتھ ہی جماعت احمدیہ قادیان کا شیرازہ بھی بکھر جائے گا۔جس طرح خلق اول کے وقت ہمنوں کی پیشگوئی باطل اور محض ایک نفسانی آرزو ثابت ہوئی اسی طرح خلق آخر کے وقت بھی وہی منظر دنیا نے دیکھا اور جس خلافت کے متعلق کہا جاتا تھا کہ چند سال سیسک سیساک کو دم توڑ دے گی وہ ۵۲ سال تک دنیا میں بڑے جاہ وجلال اور تمکنت کے ساتھ مسند افروز رہی اور خدا نے اس نوجوان کو اس کے نفسی نقطۂ آسمان کی طرف نہ اُٹھایا جب تک وہ کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر کر کے زمین کے کناروں تک شہرت نہ پا گیا۔لیکن ابھی ان باتوں کے ظاہر ہونے کا وقت نہ آیا تھا۔ابھی تو اولوالعزمی کے امتحان کے دن تھے۔ابھی تو یہ سوال تھا کہ مخالفت کی شدید آندھی کے مقابل پر یہ نازک پودا قائم بھی رہیگا یا نہیں۔جیسا ابتداء اس وقت آیا تھا اور جس طرح گھر گھر یہ ایک زلزلہ کی سی کیفیت طاری ہوئی تھی۔گو بعد میں بھی بہت ابتلاء آئے لیکن اولوالعزمی کے امتحانوں میں پہلا شبہ یہ ایک خاص امتحان تھا اس موقعہ پر آپ کی ایک رڈیا کا ذکر مناسب ہوگا میں میں آپ کو آئندہ پیش آنے والے مہیب خطرات سے پہلے ہی متنبہ کر دیا گیا تھا۔اور ان