سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 64
۶۴ خاصہ ہے۔اس کے کلام میں اثر اس کی تقریر میں لذت اس کے احکامات میں رعب ہے۔اگر وہ فرماتا ہے بیٹھ جانا مناسب ہے تو جھٹ کھڑے ہوئے بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔پھر اگر وہ فرماتا ہے کہ مسجدوں میں با جماعت نماز پڑھنے کی نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے بہت تاکید فرمائی ہے تو اس کے حکم کی تعمیل میں فوراً تینوں مسجدیں بھر جاتی ہیں۔اور مسجد مبارک میں تو یہ کیفیت نظر آتی ہے کہ کیا چھت اور کیا فرش کیا بازار کیا دکانیں اور کیا قرب وجوار کے مکانات سب کے سب دور دور تک خدا کے مقرر کردہ امام و خلیفہ کے مقتدیوں سے بھر جاتے ہیں۔کاش قادیان کے ساتھ محبت کرنے والے لوگ اس منظر کو دیکھتے اور صفائی قلب سے خدا تعالے کے فعل اور اس کی پیدا کردہ کشش قلوب پر غور کرتے اور فضل عمر کے ساتھ آنے والے فضل سے حصہ لیتے۔مگر ایں سعادت بزور بازو نیست تا نه بخشد خدائے بخشنده (اتفضل اور دسمبر ۱۹۱۳ ص۲) املہ کا سال بھی سلسلہ کی طرح ایک حد تک اندرونی فتنوں کے استیصال میں میر ہوا۔اس دور کی تقاریر اور کتب کا موضوع زیادہ تر اختلافی مسائل تھے یا وہ ذاتی اعتراضنا تھے جو غیر مبایعین کی طرف سے بڑی شدت اور بے رحمی کے ساتھ حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر کئے جاتے تھے۔چنانچہ اس سلسلہ میں سب سے پہلا رسالہ آپ نے ۲۱ جنوری شاہ کو تحریر فرمایا جو القول الفصل" کے نام سے شائع ہوا۔یہ رسالہ جو اٹھراہ ، صفوان پر مشتمل ہے۔آپ نے ایک ہی دن میں لکھوا کر اور نظر ثانی کر کے طباعت کے لئے دے دیا۔اس سے آپ کی بے پناہ قوت تصنیف کا اندازہ ہو سکتا ہے اس رسالہ کی تصنیف کی تقریب اس طرح پیدا ہو ئی کہ خواجہ کمال الدین صاحب جب ولایت سے واپس تشریف لائے تو اپنی قابلیت اور فصاحت و بلاغت کے زعم میں ان کو یہ خیال گذرا کہ مرزا محمود احمد کی مخالفت میں ابھی کچھ کمی رہ گئی ہے اور جماعت کے سنجیدہ طبقہ کو معقولی دلائل کے ساتھ جو اپیل ہونی چاہیے تھی اس میں کوتاہی ہوئی ہے۔علاوہ ازیں اہل پیغام کی قیادت کے ی