سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 60

توفیق دے آئے اور جس کو خدا تعالے ہدایت دے وہ اسے قبول کرے۔سب سے زیادہ حسین دنیا میں بہت سی چیزیں ہیں جو بڑی حسین اور بڑی خوبصورت ہیں لیکن جو کوئی چیز بھی دنیا میں ممکن سے ممکن حسین ہو سکتی ہے۔وہ خدا تعالے ہی کی مخلوق ہے۔خدا تعالے نے ہی اس کو حسن اور خوبی دمی ہے اس کے حسن کو کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی۔مگر باوجود اس کے کہ اللہ تعالے سب سے زیادہ حسین ہے۔سب سے زیادہ پیارا ہے۔سب سے زیادہ خیر و برکت رکھنے والا ہے۔مگر دنیا اور نا اہل دنیا اس کو حقارت اور ناقدری کی نظر سے دیکھیتی ہے۔وہ رب العالمین ہے اور اس کی عظمت اور دبدبہ کے سامنے سب چیزیں ہیچ ہیں مگر اس سے جو سلوک دنیا کر رہی ہے وہ بہت نفرت اور حقارت کے قابل ہے۔حضرت خلیفہ اسح الاول رضی اللہ عنہ اپنے ایک اُستاد کا ذکر سنایا کرتے تھے کہ انہوں نے بھوپال میں خواب میں دیکھا کہ میں شہر سے باہر ایک پل کے پاس کھڑا ہوں۔وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کوڑھی پڑا ہے جس کے تمام جسم میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں۔اس پر تھیاں ہیں اور سخت تکلیف کی حالت میں ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو۔اس نے کہا۔میں اللہ میاں ہوں۔تمہارا خدا ہوں۔میں نے کہا ہم نے تو قرآن شریف میں اپنے خدا کی بڑی تعریفیں پڑھی ہیں کہ وہ ایسا خوبصورت ہے کہ اور کوئی اس کی مانند ہے ہی نہیں۔یہ آپ کی کیا حالت ہے۔اس نے آگے سے جواب دیا کہ تم یہ جو شکل میری دیکھ رہے ہو یہ میری اصل شکل نہیں ہے بلکہ بھوپال کے لوگوں کی نظروں میں میری یہ شکل ہے۔پس تم لوگ بھی اپنے دلوں کو ٹولو۔اپنے اعمال کو اپنی باتوں کو اپنے اقوال کو اپنی حرکات کو۔اپنی سکنات کو دیکھو کہ دنیا کی جو چیزیں تمھیں پیاری لگتی