سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 57
وہ احمد بی جو بڑے بڑے شہروں میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے مکان تک ان کا جانا مشکل ہوتا ہے ان کے لئے یہ بات نہایت مشکل ہے کہ ہر نماز کے وقت ایک جگہ جمع ہو سکیں۔لیکن ان کو چاہیئے کہ اپنے محلہ کے احمدی مل کر با جماعت نماز پڑھا کریں۔اور کبھی کبھی سارے اکٹھے ہو کر بھی پڑھیں بستی ہر گز نہیں ہونی چاہیئے۔یہ ایسی خطرناک بات ہے کہ اس کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں۔مجھے قرآن شریف سے یہی معلوم ہوا ہے کہ جس کو نماز با جماعت پڑھنے کا موقع ملے اور وہ نہ پڑھے تو اس کی نماز ہی نہیں ہوتی۔حضرت ابن عباس کا بھی یہی مذہب ہے " (صامت) زکوة کی اہمیت 〃 زکوۃ کا حکم ایک بے نظیر حکم ہے اور اسلام کی بے انتہاء خوبیوں میں سے ایک روشن خوبی ہے اور بہت سی جماعتوں پر اس کے ذریعہ اسلام کی عظمت کی حجت قائم کی جاسکتی ہے۔مثلاً یورپ میں آجکل دو گروہ ہیں۔ایک کہتا ہے کہ جتنا کوئی کماتا ہے اسے کمانے دو اور اس کو اپنی محنت کا مثرہ اُٹھانے دو۔دوسرا گروہ کہتا ہے کہ سارے ملک کے لوگ کام کرتے ہیں تب ہی دولت آتی ہے اس لئے جو لوگ بہت مالدار ہیں ان سے چھین کر مفلس اور نادار لوگوں کو دنیا چاہیئے تاکہ وہ بھوکے نہ مریں اور ملک کے کاروبار میں خلل واقع نہ ہو۔خدا تعالٰی نے ان دونوں گروہوں کی باتوں کو روکر کے ٹھیک اور درست بات بیان فرما دی ہے۔اور اسلام نے افراط اور تفریط دونوں کو چھوڑ کر عمدہ بات لے لی ہے۔میرا یقین ہے کہ اگر صرف زکوٰۃ کا مسئلہ لے کر یورپ کے سامنے پیش کیا جائے تو کسی کی طاقت نہیں کہ اس کی صداقت اور عمدگی سے انکار کر سکے۔بعض لوگ زکوۃ کو ایک چٹی خیال کرتے ہیں لیکن زکوۃ چٹی نہیں ہے۔اس کے سمجھنے کے لئے میں تمھیں ایک موٹی بات بتاتا ہوں۔گورنمنٹ رعایا سے ٹیکس لیتی ہے۔۔پھر اس ٹیکس سے ملک اور رعایا کی شفاف کے لئے فوج اور پولیس تیار کرتی ہے۔رعایا کے آرام کے لئے سڑکیں اور شفا خانی۔۔۔طت