سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 45
۴۵ خطا کر دی ہے۔سیرت نبوی پر ایسے انوکھے۔سادہ مگر پر اثر اور دل نشین انداز میں شاید ہی کسی کو قلم اُٹھانے کی توفیق ملی ہو۔یہ مضمون ایک دریا ہے عشق و عرفان کا جسے طوالت کے خون سے نہ تو من وعن نقل کرنا سہل ہے اور نہ یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ کس حصے کو نمونے کے طور پر اخذ کیا جائے اور کسے چھوڑا جائے۔منازہ ایسیح کی تکمیل اسی سال آپ نے جماعت کو منارہ اسیح کی عمارت کی تکمیل کی طرف توجہ دلائی، جو بنیا دوں تک پہنچ کر رُکی ہوئی تھی۔چنانچہ تعمیر نو کا آغاز کرتے ہوئے آپ نے ۲۷ نومبر 19ء کو دردمندانہ دعاؤں کے ساتھ اپنے ہاتھ سے پہلی اینٹ نصب کی۔بفضلہ تعالیٰ یہ کام دو سال کی مدت میں مکمل ہو گیا۔دوسری شادی 191ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا دوسرا نکاح حضرت خلیفہ اسیچ الاول رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت امتہ الحی صاحبہ سے ہونا قرار پایا۔یہ نکاح سلسلہ کے مشہور بزرگ اور عالم دین حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے ایک ہزار روسی حق مهر پر اس مٹی شاہ کو پڑھایا ہے حضرت صاحبزادی امتہ الحی صاحبہ کی طرف سے اُن کے بھائی میاں عبد الحی صاحب ولی تھے۔جنہوں نے حاضر احباب جماعت سے اجازت لے کر اس نکاح کی منظوری دی۔اس شادی کے متعلق حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی زندگی ہی میں آپ کو خیال پیدا ہو چکا تھا۔اور ایک رویا کی بناء پر آپ کو یہ یقین تھا کہ رشتہ نہیں ہوگا لیکن با وجود کئی مرتبہ ارادہ کرنے کے حضرت خلیفہ ایسیح کی خدمت میں پیغام نہ بھیجوا سکے۔کچھ تو طبعی حجاب مانع رہا اور کچھ جماعت میں ابتلاء کا خوف۔بہت سے منہ پہلے ہی سو قسم کی باتیں بنا رہے تھے۔اگر یہ پیغام دے دیا جاتا تو مزید فتنہ پھیلانے کے لئے یہ بہانہ بنایا جاتا کہ داماد بن کہ خلافت پر قبضہ کرنے کی مزید کوشش کی جا رہی ہے۔الفضل ۳ جون ۱۹۱۴ ص ۲۲