سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 378
بیوی سے بھی نہ رہا گیا اور بمبنت مجھ سے التجا کی کہ اگر چہ بیچتے بیمار ہیں اور میں خود بھی کمزور ہوں مگر کیا ہی اچھا ہو اگر مجھے ہمراہ لے چلیں تا کہ میں بھی حضور کا روح پرور کلام شن سکوں۔زندگی کا اعتبار نہیں نہ معلوم پھر موقع ملے یا نہ ملے۔حالات اجازت تو نہ دیتے تھے مگر اس کے اخلاص کے مدنظر مع بال بچہ اسے بھی ساتھ لے لیا اور سیالکوٹ پہنچا۔حضور کا پُر شوکت لیکچر جو دن کو مردوں میں قرار پا چکا تھا شنکر ہم محظوظ ہوئے۔مگر رات کو مستورات میں حضور کی جو تقریر ہوئی تھی بوجہ علالت طبع اس کے متعلق اعلان ہو گیا کہ نہیں ہو گی۔اس اعلان کوشنکہ مرحومہ کو ناقابل برداشت صدمہ ہوا اور طبیعت کا سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ناچار اس کے اصرار و ایمیاء سے ایک درخواست اس کے نام سے بحضور خلیفہ اسیح الثانی فضل عمر رضی اللہ عنہ لکھی گئی کہ مستورات بھی حضور کی تقریر سننے کے لئے سخت بے قرار ہیں براہ نوازش ہمیں بھی کچھ نہ کچھ سنایا جائے جسے از راہ شفقت حضور نے شرف قبولیت بخش کہ پنجابی زبان میں وہ تقریر دلپذیر فرمائی جو فرائض مستورات کے نام سے اُردو کا لباس پہن کر کتابی صورت میں مدت سے شائع ہو چکی ہے اس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مرحومہ مرض الموت سے بیمار ہوئی اور چند روز کے بعد مجھے اور تین بچوں کو جن میں سب سے بڑا ڈاکٹر محمد احمد ہے اور جو آجکل قابل اور کامیاب ڈاکٹر کی حیثیت سے عدن میں اپنے فن کی پریکٹس کر رہا ہے ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے کر اپنے مولے سے جاملی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔۔ر الفضل ۱۳ فروری ۱۹۳۷ ۶ مت لے ڈاکٹر محمد احمد صاحب موصوف جو اپنے والدین کی طرح نہایت مخلص اور خدائی احمدی تھے۔وفات پاچکے ہیں۔