سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 372 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 372

نہیں کہ وہ خموش گھر اور تاریک گھر اور ان میں رہنے والا بے زبان حصہ انسانی بہت سے تغیرات میں مبتلا ہے۔ان تاریک کونوں میں علم کا نور پہنچ رہا ہے۔ان بند گھروں کے دروازے کھل رہے ہیں۔بے زبان تصور میں زبان حاصل کر رہی ہیں۔اگر چہ ابھی بہت کمزور حالت ہے۔بہت چھوٹی سی تحریک ہے۔بہت معمولی سی رو ہے۔مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ رو پڑھ کر رہے گی اور طاقتور ہوکر سامنے آجائے گی۔اسلام کیا کہتا ہے پس ہمیں کوئی فیصلہ کرنے سے قبل یہ سوچ لینا چاہیے کہ اگر اسلام صریح طور پر یہ کہتا ہے کہ عورت کو مجلس شوری میں مشورہ دینے کا حق نہیں تو ہم اس بات کے لئے آمادہ اور تیار ہیں کہ عورتوں کی ترقی کے تمام ذرائع استعمال کریں۔مگر انہیں ملیں میں مشورہ دینے سے روکے رہیں گے۔لیکن اگر اس بارہ میں شک ہو ہمارے نفوس ہمیں علیحد گی میں کہیں کہ عورتوں کو یہ حق نہ دینے کی نصق تو نہیں اور باوجود اس کے گھروں میں امن اور سوسائٹی کے تعلقات کو تباہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں تو اس دن سے ڈرنا چاہیے جبکہ یہ کرو جو دوسروں میں چل رہی ہے۔ہماری جماعت اور ہمارے گھروں میں بھی چلنے لگے اور ہمارے نصف حصہ کو یہ کہنے پر مجبور کر دے کہ ہم اس نا سرب سے تعلق نہیں رکھنا چاہتیں جو عقل تو دیتا ہے لیکن رائے دینے کا حق نہیں دیتا۔آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں۔پرسوں نہیں تو اترسوں یہ سوال اُٹھے گا اور اس زور سے اُٹھے گا کہ کوئی اسے دبا نہیں سکے گا۔ہمیں اس بارے میں جو کچھ دیکھنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ نفق