سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 366 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 366

نظر اور کا پینے کے مجالس میں اپنا مدعا ظاہر کر سکیں۔اس کے لئے ہمیں کچھ مدت اور انتظار کرنا پڑے گا تھی۔ر مصباح یکم اپریل ۱۹۲۶ئه مه تعلیم نسواں عورتوں کی تعلیم کی طرف ابتداء ہی سے آپ کو بڑی گہری توجہ تھی۔لیکن آپ کے ذہن میں تعلیم کا اصل اور بنیادی تصور دینی تھا اور دنیاوی تعلیم کو ثانوی حیثیت حاصل تھی۔خصوصاً عورتوں کو چونکہ گھروں میں اپنی اولاد کی دینی تربیت کا اولین ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اس لئے ان کی دینی تعلیم کی طرف آپ کی خصوصی چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا : جس طرح تم (مرد) اپنے لئے پڑھنا ضروری سمجھتے ہو۔اسی طرح ان کے لئے بھی پڑھنا ضروری سمجھ کر ان کو پڑھاؤ، تا تمہارے گھر ایسے نہ ہوں کہ صرف تم ہی قرآن جاننے والے ہو اور باقی جاہل۔بلکہ تمہاری عورتیں بھی جانتی ہوں۔۔۔۔۔ہماری جماعت کے وہ لوگ جنہوں نے اپنی عورتوں کو دین سے واقف نہیں کیا اُن کا تلخ تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے کہ ان کے فوت ہو جانے کے بعد ان کے بیوی بچے غیر احمدی ہو گئے " ر الفضل در اگست ۶۱۹۱۷ ی مضمون پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے فرمایا :- دین کی تعلیم عورتوں کو بھی ضرور دینی چاہیئے۔کیونکہ جب تک دونوں پہلو درست نہ ہوں اس وقت تک انسان خوبصورت نہیں کہلا سکتا۔۔۔۔۔۔۔میں تو باوجود اس کیے یکیں کہ اور بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں۔گھر میں ضرور پڑھانا ہوں۔کیونکہ عورتوں کا پڑھانا بہت ضروری ہے۔۔۔۔۔میرا دل چاہتا ہے کہ ہماری نسلیں، ہم سے بھی زیادہ