سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 304

۳۰۴ پھر فاستخانہ اس ملک میں داخل ہو کر انگریزوں کو نکال دیں اور اپنی امانت اپنے بھائیوں سے واپس لیں۔مجھے یقین ہے کہ ہندو بھائی جن کے ساتھ ہم ایک ہزار سال سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ہماری اتنی خدمت سے پہلو ہی نہ کریں گے۔ان کے بعد بریلی کے ایک جنسی دھر پاٹھک کھڑے ہوئے ان کی تقریر بہت پر جوش اور بے حد دلچسپ تھی۔انہوں نے مولانا محمد علی کے پہلے پر دہلا یوں مارا کہ اگر مسلمان بھائی اپنی شریعت کے احکام کے تحت اس ملک سے ہجرت کر جانے پر مجبور ہیں تو ہندو بھی یہاں رہ کر کیا کرینگے۔اگر مسلمان چلے تو ہندو جاتی بھی ہجرت میں مسلمانوں کا ساتھ دے گی اور ہم اس ملک کو ایک بھائیں بھائیں کرتا ہوا ویرانہ بنا دیں گے۔تاکہ انگریز اس ویرانہ سے خود رہی دشت کھا کر بھاگ جائیں۔کس قدر عقل سے دُور باتیں ہیں لیکن جذبات کی دنیا نرالی ہے۔اس وقت جلسے کا یہ عالم تھا کہ بعض لوگ چیخیں مار مار کر رو رہے تھے اور خلافت کا نفرنس مجلس عزا بن گئی تھی کے لئے اُس وقت مسلمانوں کو اس جذباتی ماحول میں جس قسم کے فرشتے نظر آرہے تھے اُسے ہم فریب نظر کے سوا اور کچھ نہیں کہ سکتے۔مسز اپنی بسنٹ ایک انگریز خاتون سیاست دان جب تحریک خلافت کے اس عظیم اسلامی سٹیج پر تقریر کے لئے تشریف لائیں تو بقول سالک منا ان کا سفید سر۔سفید چہرہ اور سفید لباس دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی فرشتہ آسمان سے اُتر آیا ہے ہے کہ گاندہی بھی اُن دنوں صرف ہندوؤں ہی کے نہیں مسلمانوں کے بھی جمہاتما بن چکے تھے۔اور شہدائے اسلام کے معاملات غور و خوض کے لئے اُنہی کے سامنے پیش ہو رہے تھے۔ہندو مسلم نویسی اتحاد کا وہ عالم تھا کہ دین الہی کے موجد اکبر کی روح بھی وہ نظارے دیکھ کر اگلے جہان میں پھڑک رہی ہو گی۔مولانا سالت صاحب لکھتے ہیں:- چند روز کے بعد گاندھی جی آئے۔بہت عظیم الشان جلسہ مہوڑا۔سرگزشت مصنفه عبد المجید سالک غذا ١٠٨ له ايضا متا -