سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 298

ثابت کیا اور عقلاً اسے خود کشی قرار دیا۔اور تفصیل سے اس امر پر روشنی ڈالی کہ اس کے نتیجہ میں مسلمانان ہند کو کیسے عظیم اور ہولناک نقصانات برداشت کرنے پڑیں گے۔سب سے زیادہ افسوس آپ نے اس امر پر کیا کہ آج ملت اسلامیہ کا راہ نما ایک ایسے شخص کو بنا لیا گیا ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے دائرہ سے کلینہ آزاد ہے۔چنانچہ مسٹر گاندھی کی قیادت قبول کرنے پر اور ان کی بات کو حرف آخر قرار دینے پر احتجاج کرتے ہوئے آپ نے لکھا:۔کیا ترک موالات کے حامیوں کے پاس ان سوالوں کا ایک ہی جواب نہیں کہ مسٹر گاندھی نے چونکہ ایسا کیا اس لئے ہم اس طرح کرتے ہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ ہم یہ نہیں کہنے کہ اس طرح نہ کرو جس طرح مسٹر گاندھی کہتے ہیں۔اگر کسی کے خیال میں مسٹر گاندھی کا پڑ گرم مفید اور قابل عمل معلوم ہوتا ہے تو وہ بے شک اس پر عمل کرے مگر مسٹر گاندھی کے قول کو قرآن کریم کیوں قرار دیا جاتا ہے شریعت اس کا نام کیوں رکھا جاتا ہے۔اگر یہ بات ہے تو لوگوں سے یہ کھو کہ چونکہ مسٹر گاندھی اس طرح فرماتے ہیں اس لئے اسی طرح تم کو عمل کرنا چاہئیے یہ کیوں کہتے ہو کہ شریعت اسلام کا یہ فتونی ہے۔شریعت اسلام نے بغیر مسلموں سے ترک موالات کرنے کا جن شرائط کے ساتھ حکم دیا ہے وہ شرائط تو جب بھی کسی قوم میں پائی جائیں اس سے ہرقسم کی امداد لینی یا اس کو کسی قسم کی مدد دنینی نا جائزہ ہو جاتی ہے سوائے اس کے کہ تذتل کی امداد ہو یعنی ایسی مدد ہو جس میں ہم حاکم ہوں اور وہ ماتحت ہوں۔پس اگر یہ فتویٰ وہی ہے جو خدا تعالیٰ نے دیا ہے اور وہی حالات ہیں جن میں ترک موالات کرنا اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔تو پھر پروگرام مقرر نہیں ہو سکتے۔کسی قسم کی موالات معاف نہیں و سکتی۔نفع اور نقصان کو نہیں سوچا جا سکتا۔لیکن اگر یہ پروگرام شریعت اسلام کا نہیں بلکہ مسٹر گاندھی کا ہے تو پھر اس کو شرعیت