سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 297

۲۹۷ اور اس کے احیاء کے متمنی ہیں درخواست ہے کہ وہ اس رسالہ کو جہاں تک ہو سکے اپنے دوستوں، واقفوں ہشنا ساؤں اور ہموطنوں تک پہنچائیں اور اس خطرناک رو کے روکنے میں پوری سعی کریں جو اسلام کے بدنام کرنے کا باعث ہو رہی ہے اور مسلمانوں کی رہی سہی طاقت کے مٹانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔یہ وقت غفلت کا نہیں ہے۔اسلام پہلے ہی بہت صدمہ خوردہ ہے اور اس کی پاک اور پر امن تعلیم پر پہلے ہی نہایت میلے کچیلے غلاف ڈالے جانچے ہیں اب زیادہ تعقل قابل برداشت نہیں۔پس اُٹھو اور بلا کسی سلامت کے خوف اور لوگوں کے طعنوں کے ڈر کے اس کی مڑ کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔بے شک لوگ آپ کو ترک موالات کی مخالفت کی وجہ سے بُزدل کہیں گے اور خوشاندی نام رکھیں گے۔لیکن اگر اسلام کی محبت کے لئے آپ یہ کام کریں گے تو یہ باتیں آپ کا نقصان نہیں کر سکتیں۔وہ شخص بہادر نہیں ہوتا جو بُزدل کہلانے سے ڈر جاتا ہے۔اور نہ وہ بند دل ہوتا ہے جو حق کو اس لئے نہیں چھوڑ دنیا کہ لوگ اُسے بزدل کہیں گے۔خاکسار مرزا محمود احمد اس تھید کا آخری فقرہ ہر دور، ہر ملک اور ہر مذہب و ملت کے اہنماؤں کے لئے ایک رنور کی حیثیت رکھتا ہے۔اس سے بہتر الفاظ میں ہم میں ہم آپ کی صاحب عزم شخصیت کا تعارف کرانے سے قاصر ہیں۔یقینا وہ ایک بہادر شخص تھا جو بُزدل کہلانے سے کبھی نہیں ڈرا۔اور کبھی اس نے حق کو اس لئے نہیں چھوڑا کہ لوگ اس کو منہ دل کہیں گے۔تحریک ترک موالات پر آپ کا تبصرہ محض ایک مفید سیاسی مشورہ ہی نہیں بلکہ علوم قرآنی کا ایک بیش قیمت خزانہ ہے اور اسے پڑھے بغیر صحیح معنوں میں یہ بات سمجھ میں نہیں آسکتی کہ آپ کا یہ دعوی کیا معنے رکھتا تھا کہ میری سیاست قرآن پر مبنی ہے آپ نے متواتر قرآنی آیات سے استدلال کرتے ہوئے مسلمان قیادت کی غلطیوں کی نشاندہی فرمائی نے ان کے لائحہ عمل کو سراسر غیر اسلامی ثابت کیا جو بظاہر اسلام کی بہبود کی خاطر مسلمانوں کے سامنے پیش کیا جا رہا تھا۔آپ نے قرآن کریم سے اسے غلط