سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 270

تجویز کئے کہ ابھی جن کے وجود کا نمبر بھی نہ اٹھا تھا اور عام اہل بصیرت کی نظروں سے اوجھل تھے آپ کا فیض اگر چہ مسلمانوں کے لئے بطور خاص تھا مگر انسانی ہمدردی سے مجبور ہو کہ آپ نے ایسے مسائل پر جو عام انسانی بہبودیسے تعلق رکھتے ہوں بسا اوقات بڑی بڑی سلطنتوں مثلاً امریکی۔روس برطانیہ عظمیٰ اور جاپان کو بھی قیمتی مشوروں سے نوازا۔یہ امور اگرچہ بظاہر سیاسی نوعیت کے تھے لیکن بنظر غائر دیکھیں تو ہر اس موقع پر آپ کو ایک عظیم سیاسی مفکر کے پر دے میں ایک مخلص اسلامی دل دھڑکتا ہوا نظر آئے گا جس کے محرکات بھی دینی تھے جس کا لائحہ عمل بھی دینی تھا جس کا مقصد اول بھی دینی تھا اور مقصد آخر بھی دینی تھا جس کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک سکون جس کا اٹھنا بیٹھنا۔بولنا اور چپ رہنا اور گہرے فکر میں مستغرق ہو کر انسانی مستقبل میں دو رنگ گرمی اور تیز نگاہیں ڈال کہ آئندہ کے حالات کا جائزہ لینا سب سراسر دینی رنگ میں رنگین تھا۔یاسی موضوع پر آپ نے جو کتب اور رسائل لکھے اور تقریریں فرمائیں یا سیاسی راہنماؤں کو جو نهایت قیمتی مشوروں پر مشتمل پیغام بھیجے ، وہ سب اتنی وسعت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ایک مستقل ضخیم کتاب کے متقاضی ہیں۔بہر حال محدود جگہ اور وقت کے پیش نظر کہیں اختصار اور کہیں کسی قدر تفصیل کے ساتھ ہم آپ کی بعض ایسی ملی اور انسانی خدمات پر نظر ڈالتے ہیں جو عرف عام میں سیاست کے دائرے سے تعلق رکھتی ہیں۔