سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 269
۲۶۹ کہ حق کا تقاضا کیا ہے اور خود عوام کی بہبود کس چیز میں ہے۔ہنگامہ آرائی اور عوامی جذبات کے ساتھ کھیلنے سے یہ سیاست بہت بلند تھی۔آپ اس قرآنی تعلیم پر سچا اور کامل ایمان رکھتے تھے کہ اقتدار اعلیٰ بھی خدا کو حاصل ہے۔طاقت کا سر خیمہ بھی وہی ہے۔اصولی رہنمائی بھی اسی کی ہے اور اصولوں کی چار دیواری میں شخصی آزادی بھی اسی نے بخشی ہے۔اس پابند اصول سیاست سے آپ نے کسی وقت اجتناب نہیں کیا بلکہ اس کے تقاضوں کو بے دھڑک اور بر ملا پورا کیا اور جب بھی عالم اسلام نے زبان حال سے آپ کو پکارا۔آپ ان کی مد کے لئے دوڑے۔آپ کے تمام سیاسی مشورے قرآنی تعلیم پر مبنی تھے۔آپ کے تمام سیاسی اندازے اور پیش گوئیاں یا تو قرآن سے مستنبط تھیں یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشنگوئیوں اور رویاد وکشون کے نتیجہ میں کی گئی تھیں۔قوم پرستی کو آپ کی سیاست میں دخل نہ تھا البتہ حب الوطنی کے تقاضوں کو آپ ایک دینی تقاضے کے طور پر جزو ایمان سمجھتے تھے آپ کی سیاسی ترجیحات کی ترتیب کچھ اس طرح تھی کہ قرآن اور سنت کو اولیت حاصل تھی اور اگر کوئی بھی مفاد قرآن اور سنت کو چھوڑ کر حاصل ہوتا ہو تو آپ اس کو شائستہ التفات نہ سمجھتے تھے۔اس کے بعد شعائر اللہ کی عظمت اور اس کی حفاظت کا احساس تھا، جن کے مقابل پر دوسرے ملی اور قومی تقاضے آپ کو ادنی اور بے حیثیت نظر آتے تھے۔اس کے بعد ملت اسلامیہ کا مفاد آپ کو عزیز تر تھا اور بعد ازاں حب الوطنی کا درجہ آتا تھا۔آپ کی سیاست کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ آپ سیاست میں بھی دعاؤں کے اثر کے قائل اور ان سے استفادہ کرنے کے عادی تھے۔آپ دعا کو بڑے محکم یقین کے ساتھ ایک سیاسی تدبیر کے طور پر استعمال کرتے اور جماعت کو بھی اس کی نصیحت کرتے یہی آپ کی سیاسی شخصیت کا لب لباب ہے۔اس شخصیت سے جب آپ تحریک ترک موالات کے دوران متعارف ہونگے یا ملکانہ کے کارزار میں اسے مصروف عمل دیکھیں گے۔یا نہرو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے پائیں گے یا کشمیر کے مرغزاروں میں مظلوم مسلمانوں کے جہاد آزادی کا پھر برا بلند کرتے ہوئے دیکھیں گے، تو ہر جگہ آپ کو وہی ایک انداز سیاست نظر آئے گا۔جو ایک عجیب دار با نشان ایمانی اپنے اندر رکھتا تھا۔اسی انداز میں آپ نے حصولِ پاکستان کی عظیم جدوجہد میں دوسرے مسلمانوں کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔اور قربانی کے ہر تھامنے کو دوسروں سے بڑھ کر پورا کیا۔پھر مسئلہ فلسطین پر ہر وقت ملت اسلامیہ بروقت کو پیش آئند خطرات سے متنبہ کر کے استحاد عمل کی دعوت دی۔اسی طرح پاکستان کے عالم وجود میں آنے پر آپ نے ایسے مسائل کی نشاندہی کی اور مؤشرجیل