سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 228
دوفٹ اونچا ہوا میں معلق تھا۔میرے دیکھنے پر وہ میرے قریب آیا۔جب میں نے لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ اس طرح پیچھے ہٹا جس طرح بعض دفعہ بڑی عمر والے بچوں سے کھیلتے ہیں اور پیز بظاہر دیتے ہیں لیکن ہاتھ بڑھانے پر کھینچ لیتے ہیں۔دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا لیکن اس سے میری طبیعت پر یہ اثر نہیں ہوا کہ گویا کوئی چڑا رہا ہو بلکہ پیار کے ساتھ کھیلنے کا سا احساس تھا۔آخر میں نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تو وہ رُو مال قریب آکر دو تین دفعہ ہوا میں جھولنے کے بعد خود ہی میری گود میں آن گرا۔یہ واقعہ کم وبیش اسی طرح حضور نے خود میرے سامنے بیان فرمایا۔خوابوں کی تعبیر کا ذکر چل رہا تھا اور بات یہ ہو رہی تھی کہ لغو خوابوں کو آپ لغو ہی قرار دیتے اور یونہی ہر خواب کی تعبیر کرنا آپ کی عادت نہ تھی۔ایک دفعہ ایک خاتون کی نف اہر متوحش خواب کی تعبیر کرتے ہوئے آپ نے لکھا:- عزیزہ ہمشیرہ۔بسم اللہ تعالے ! السّلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا خط ملا۔خواب بعض بے شک توحش ہیں مگر بعض نہیں۔بجائے الہی ہونے کے بیمار اول تھکے ہوئے دماغ کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مبشرہ دیاء خدا تعالے کی طرف سے اور منذر رویا شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اس کا مطلب لوگ نہیں سمجھتے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ اگر زیادہ منذر رڈیا آئیں تو وہ دماغی کمزوری کا نتیجہ ہوتے ہیں نہ کہ خدا تعالے کی طرف سے۔لیکن عمدہ رویاء اگر زیادہ آئیں۔تو وہ بالعموم اللہ تعالے کی طرف سے ہوتی ہیں پارہ فی الحال اس دلچسپ مضمون کو یہیں ختم کیا جاتا ہے۔حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے اپنے رویا، اور کشوں کا ذکرہ ایک علیحدہ باب کا متقاضی ہے اور انشاء اللہ علیحدہ باب کی صورت میں ان کا ذکر کیا جائے گا : له الفضل ۲۴ فروری ۱۹۲۵ء صل