سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 154
۱۵۴ میں نہیں بیٹھنے دیتا اور ان سے کہہ دیتا ہوں کہ جب تک آپ نہ بیٹھیں گے میں بھی کھڑا رہوں گا۔بعض دفاتر کے چپڑاسی آتے ہیں اور وہ زمین پر بیٹھنا چاہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ نہیں۔آپ چپڑاسی کی حیثیت سے نہیں بلکہ مجھے خلیفہ سمجھ کر ملنے آئے ہیں۔غرضکہ جب تک آنے والے کو نہ بٹھالوں میں خود نہیں بیٹھتا۔مجھے ملنے والوں کی تعداد ہزاروں تک ہے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس میں کبھی تخلف ہوا ہو سوائے اس کے کہ میں بیمار ہوں ، یا کسی کام میں مشغول ہونے کی وجہ سے کیمیمی غلطی ہو جائے۔ہاں جلسہ سالانہ کے ایام مستثنیٰ ہیں۔ان دنوں میں ملنے والے اس کثرت سے آتے ہیں کہ ہر ایک کے لئے اٹھنا مشکل ہوتا ہے ہاں ان دنوں میں بھی جب کوئی غیر احمدی آئے تو چونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ میری مشکلات کو نہیں سمجھ سکتا اس لئے کھڑا ہو جاتا ہوں۔یا پھر ان ایام میں جب ملاقات کا زور نہ ہو تو کھڑا ہوتا ہوں۔یہ میرا اصول ہے اور میں سمجھتا ہوں ناظروں کو بھی ایسا کرنا چاہیئے اور اگر اس کے خلاف کبھی شکایت آئے تو میں چاہتا ہوں کہ میں کے خلاف شکایت ہو اُسے تنبیہ کی جائے جب تک یہ بات نہ ہو اسلام کی روح قائم نہیں ہو سکتی " والفضل ۲۷ اپریل ۱۹۳۶ ص۳) ایک اور موقع پر فرمایا :- کامل اطاعت اور فرمانبردار می نہایت ضروری ہے اور یہ صرف خلیفہ سے ہی مخصوص نہیں۔بعض لوگ اس وہم میں مبتلا ہوتے ہیں، کہ بس خلیفہ کی بات ماننا ہی ضروری ہے اور کسی کی ضروری نہیں خلیفہ کی طرف سے مقرر کردہ لوگوں کا حکم بھی اسی طرح مانت ضروری ہوتا ہے جس طرح خلیفہ کا۔کیونکہ خلیفہ تو براہ راست ہر ایک شخص تک اپنی آواز نہیں پہنچا سکتا۔رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم