سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 101

هر چند که سردار صاحب کا یہ مختصر جواب کج بحثی کے دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے اور اس جواب کے بعد گفتگو جاری رکھنے کا سوال ہی باقی نہیں رہنا چاہیئے۔لیکن حضرت صاحب کے دل میں بنی نوع انسان کی جو بے پناہ ہمدردی تھی اس کا تقاضا تھا کہ سائل کی مند کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے حق کی روشنی دکھانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔چنانچہ آپ نے بڑے تحمل سے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا :- آپ یوں انکار کر دیں تو اور بات ہے لیکن یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا انکار ہو سکے۔اگر آپ یہ کہیں کہ لنڈن کا جو طول و عرض یا مکانات کی وضع قطع وغیرہ بتائی جاتی ہے ممکن ہے ایسی نہ ہو لیکن لنڈن کے وجود سے آپ انکار نہیں کر سکتے۔کیونکہ وہ اس طرح ثابت ہو چکا ہے کہ اس کے متعلق کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا۔اچھا اگر آپ نہیں مانتے تو نہ مانیے۔قرآن شریف کی دلیل سُن لیجئیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لا تذرهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَيدَرِكَ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبیری خدا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان آنکھوں سے نظر آسکے بلکہ وہ خود انسانوں تک پہنچتا ہے۔یعینی آثار اور شواہد سے نظر آتا ہے کیونکہ وہ لطیف اور خبیر ہے پراس لئے بتایا کہ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمیں خدا دکھاؤ قرآن شریف کہتا ہے کہ جب خدا کی ایسی صفات ہیں تو چاہیے کہ اس کا ثبوت بھی ان سے ہی ملے نہ کہ کسی مجسم چیز کی طرح لوگوں کے سامنے آجائے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا الله - کوئی انسان زمین و آسمان کی باتوں کے متعلق غیب کا علم نہیں رکھتا۔مگر اللہ ہی رکھتا ہے۔انسان کو تو اپنی حالت کا بھی پتہ نہیں ہوتا چہ جائیکہ غیب کے متعلق خبر رکھ سکے۔سکھ: چونکہ انسانی طاقت کی اس طرح حد بندی نہیں کی جاسکتی کہ اب اس سے بالا تر نہیں جا سکتی اور محدود ہو گئی ہے۔اس لئے کوئی بات ه سوره انعام آیت ۱۰۴- ۵۲ سوره نمل آیت ۶۶