سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 65

۶۵ بعض بنیادی فیصلوں سے بھی ان کو اختلاف تھا۔مثلاً ان کا قادیان چھوڑ کر لاہور چلے آنا وغیرہ۔چنانچہ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے ایک بسیط اور بظاہر بہت مدتل لیکچر اندرونی اختلافات سلسلہ کے اسباب کے موضوع پر دیا جسے بعد میں کتابی صورت میں شائع کر کے مبائعین میں بکثرت مفت تقسیم کیا گیا۔جب حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ تک اس کا ایک نسخہ پہنچا تو اس مضمون کی اہمیت کے پیش نظر اور اس خیال سے کہ اگر مؤثر رنگ میں اس کا فوری رد نہ کیا گیا تو احبات جماعت میں غلط فہمیاں پیدا ہونے کا احتمال ہے۔نیز اس لئے بھی کہ اس مضمون میں متعدد مرتبہ آپ کا نام لے کر مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس بات کا جواب مرزا نمود احمد صاحب خود دیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خود ہی اس موضوع پر تسلیم اٹھانا مناسب سمجھا۔اور بلا تاخیر ایک ہی دن میں اس کام کو مکمل کر کے جوابی مضمون شائع فرما دیا۔اس رسالہ کی اشاعت پر آپ کے کردار کے دو پہلو نکھر کر سامنے آتے ہیں۔اول آپ کی بے پناہ تصنیفی صلاحیت - دوم - انہم کاموں کو غیر معمولی تیزی اور انہماک کے ساتھ سرانجام دنیا۔یہ دونوں پہلو آپ کی وفات تک اسی طرح قائم و دائم رہے اور عمر اور حوادث زمانہ ان پر اثر انداز نہ ہو سکے۔آپ کی تصنیفی صلاحیت کا دوسرا اظہار تین ہی ماہ کے بعد ایک اور کتاب حقیقۃ النبوۃ " کی صورت میں ہوا۔یہ کتاب مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت اہل پیغام کے ایک رسالے کے جواب میں ہے جس کا نام القول الفصل کی ایک غلط فہمی کا اظہار ہے۔یہ جواب تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔۱۴؍ فروری کو آپ نے اس ٹھوس علمی تصنیف کا آغاز فرمایا اور ۲۰ دن کے اندر اندر مارچ 1912ء میں طبع کروا کر شائع کر دی ہیے ے یہاں حضرت مولنا غلام رسول صاحب را نیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت درج کی جاتی ہے۔جو اسی تصنیت منیف سے تعلق رکھتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں : 191ء میں خاکسار لاہور سے مرکز مقدس میں سید نا حضرت خلیفہ ایسیح الثانی ایدہ اللہ نصره العزیز کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں اپنے ساتھ مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین کا ایک ٹریکی بھی لیتا آیا جو ان دنوں تازہ شائع ہوا تھا اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کر دیا حضور نے ارشاد فرمایا کہ اب اس ٹریکیٹ کا جواب بھی طبع ہونے پر لے جائیں اور مولوی محمد علی صاحب کو پہنچا دیں " رحیات قدسی حصہ نیم ۳۵)