سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 2

ہو جاتا۔ایک ایسے ہی وقت میں جبکہ آپ سخت تکلیف میں مبتلا تھے آپ نے اپنے بعد آنے والے کے حق میں ایک پُر درد دُعا کی جس کا ذکر خود آپ کے ہی الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے :- " آج مجھے بہت تکلیف ہوئی۔میں نے سمجھا اب اس دنیا میں نہیں رہوں گا۔سوئیں نے دو رکعت نماز پڑھی اور الحمد شریف کے بعد پہلی رکعت میں سورۃ الضحی اور دوسری رکعت میں آکر نشرح لك صدرك کی تلاوت کی۔پھر یکیں نے دُعا کی۔الہی ہم پر ہر طرف سے غدر ہو گیا۔۔۔۔۔۔الهی اسلام پر بڑا تبر چل رہا ہے۔مسلمان اول تو سست ہیں پھر دین اسلام - قرآن کریم اور نبی کریم سے بے خبر تو ان میں ایسا آدمی پیدا کر جس میں قوت جاذبہ ہو وہ کاہل و سست نہ ہو ہمت بلند رکھتا ہو۔باوجوہ دان باتوں کے وہ کمال استقلال رکھتا ہو۔دُعاؤں کا مانگنے والا ہو تیری تمام یا اکثر رضاؤں کو پورا کیا ہو۔قرآن وحدیث سے باخبر ہو۔پھر اس کو ایک جماعت بخش اور وہ حجات ایسی ہو جو نفاق سے پاک ہو۔تباغض ان میں نہ ہو۔اس جماعت کے لوگوں میں خوب ہمت اور استقلال ہو۔قرآن وحدیث سے واقف ہوں اور ان پر عامل اور دعاؤں کے مانگنے والے ہوں۔ابتلاء تو ضرور آدیں گے۔ان ابتلاؤں میں اُن کو ثابت قدمی عطا فرما۔ان کو ایسے ابتلاء نہ آئیں جو اُن کی طاقت سے مطبوعہ الحکم ، را پریل سه ) آج وہ دن تھا کہ اس دعا کی قبولیت کا محتم نشان ، بے پناہ قوت جاذبہ کا مالک بلند ہمت اور کمال درجہ کا استقلال رکھنے والا ، دُعاؤں کا بکثرت مانگنے والا اور رھنا الہی کے پورا کرنے میں ہمیشہ مستعد ، قرآن و حدیث سے با خبر، ایک ایسا با ہمت اور اولو العزم رہنما ، جماعت کو عطا ہوا جس کی کامیاب سیادت میں جماعت احمدیہ نصف صدی سے زائد عرصہ تک ترقی کی بلند سے بلند تر منازل طے کرتی چلی گئی۔پھر اللہ تعالیٰ باہر ہوں "