سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 62
۶۲ نے نیکی اور تقویٰ کو بعد ازاں اس قدر بڑھایا کہ بالآخر انہوں نے عملاً خدمت دین کے لئے اپنی زندگی کے بہترین سال وقف کر دیئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو ۱۹۳۰ء میں سن رائزہ کے لئے ایک انگریزی دان ایڈیٹر کی ضرورت تھی۔حضرت کی نظر انتخاب قاضی صاحب پر پڑی چنانچہ قاضی صاحب موصوف نے آپ کے ایک اشارہ پر وکالت کا کامیاب پیشہ چھوڑ کر بلا چون و چرا اس ذمہ واری کو اُٹھا لیا اور بڑی عمدگی سے سالہا سال تک نباہا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی جو عزت اور احترام اُن کے دل میں قائم ہو چکا تھا یہ اسی کا اثر تھا کہ اپنی زندگی کے ہر اہم موڑ پر انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ہی سے رہنمائی حاصل کی اور انہی کے مشورہ کو رہنما بنایا۔یہانتک کہ شادی جیسا نجی معاملہ بھی حضور ہی کی مرضی اور اجازت ہے طے کیا۔تقسیم ملک کے بعد ذریعہ معاش کے طور پر جب دوبارہ دوستان کو اختیار کرنے کا ارادہ ہوا تو اس میں بھی حضور نہی سے رہنمائی حاصل کی۔یہ فیصلہ بھی کہ کہاں وکالت کی جائے آپ ہی کی مرضی پر چھوڑ دیا۔یہ ایک نمونہ اس اثر کا پیش ہے جو حضرت خلیفہ اسح کی تقاریہ کو اللہ تعالے نے عطا فرمایا تھا۔یہ مثال ایک نوجوان تک ہی محدود نہیں بلاشبہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں ایسے نوجوان ہیں جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے خطابات سے اس درجہ متاثر ہوتے تھے کہ اپنی زندگی کی باگ ڈور کامل اطاعت کے ساتھ حضرت خلیفہ ایسیح کے ہاتھوں میں تھما دیتے تھے۔ایسے بعض اور نوجوانوں کا ذکر مختلف جگہوں پر موقع و محل کے مطابق آتا رہے گا۔جلسہ سالانہ کی تقاریر کا عمومی تاثر جو حاضرین جلسہ نے قبول کیا اس کا ذکیہ کرتے ہوئے اخبار الفضل مورخہ ۱۳۱ دسمبر ۹۱اه بعنوان خلافت ثانیہ کا پہلا جلسہ سالانہ رقمطراز ہے: "نور الدین اعظم رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہمارا پہلا سالانہ جلسہ اپنے معمول کے مطابق ہوا۔مگر خدا کے فرشتوں نے اس کو غیر معمولی