سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 58
۵۸ بناتی ہے اور طرح طرح کے آرام بہم پہنچاتی ہے تو چونکہ گورنمنٹ رعایا کے آرام کے لئے ہی ٹیکس لیتی ہے اس لئے اس کے اس ٹیکس لینے کو کوئی چیتی خیال نہیں کرتا۔اسی طرح زکوۃ بھی چٹی نہیں بلکہ خود انسانوں کے پھلے کے لئے یہ حکم دیا گیا ہے۔جس طرح گورنمنٹیں اپنی رعایا کی بہتری کے لئے ٹیکس وصول کرتی ہیں۔اسی طرح اللہ تعالے نے بھی زکوۃ مقرر فرمائی ہے اور اس کے بدلہ میں یہ نر کیا ہے کہ تمھارے اموال میں برکت ہوگی اور وہ ہر ایک قسم کی ہلاکتوں سے محفوظ ہو جائیں گے جیسا کہ فرمایا۔خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تُطَهِّرُهُمْ وتركيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتُكَ سَكَنُ لَهُمْ - (۹: ١٠٣) ان لوگوں کے اموال میں سے صدقات کا مال لو اور اس ذریعہ سے ان کو ظاہری اور باطنی نقصوں سے پاک کر دو۔اور ان کے لئے دُعائیں کرو کیونکہ تمھاری دعائیں ان کے لئے آرام اور راحت کا موجب ہیں۔غرضیکہ زکوۃ خدا تعالے کی طرف سے ایک ایسا ٹیکس ہے جس کے بدلہ میں انسان پر رحمت اور اس کی ظاہری و باطنی پاکیزگی کا وعدہ ہے۔جب سے مسلمانوں نے زکوۃ دینی چھوڑ دی ہے اس وقت سے ان کا مال کم ہی کم ہو رہا ہے۔کہاں تو ایک وقت تھا کہ یہ دنیا کے بادشاہ تھے لیکن آج ذلیل وخوار ہو رہے ہیں۔زکوٰۃ دینے والے کو اللہ تعالے اسی طرح کامیابی اور پاکیزگی کا وعدہ دیتا ہے جس طرح گورنمنٹ ٹیکس لے کر حفاظت کا وعدہ کرتی ہے۔لیکن افسوس کہ لوگ گونمنٹ کے وعدہ کو تو سچا سمجھتے ہیں اور بڑی خوشی سے ٹیکس ادا کر دیتے ہیں لیکن خدا تعالے کے وعدہ کو سچا نہیں سمجھتے اسی لئے زکوۃ نہیں دیتے۔زکوۃ کے ذریعہ سے انسان بہت سے دکھوں اور تکلیفوں سے بچ جاتا ہے کیونکہ خدا کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا - رفت تا صه) تعلیمی ترقی کیلئے سکولوں کا قیام ایک اور امر جس کی طرف میں آج آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ جماعت کی تعلیمی ترقی کے لئے میں نے تجویز کی ہے کہ ہر جگہ پرائمری سکول کھولے