سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 384
۳۸۴ یہ غلط فہمی ہے کہ وہ پردہ کے اندر بند رہتی ہیں اس لئے کچھ کام نہیں کرتیں فی الفور دُور ہو جائے گی اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ عورتیں باوجود اسلام کے (نعوذ باللہ۔ناقل ) ظالمانہ حکم کے طفیل پردہ کی قید میں رہنے کے کس قدر کام کر دی ہیں۔اور ان میں مذہبی اخلاص اور تبلیغی جوش کسی قدر ہے ہم استری سماج قائم کر کے مطمئن ہو چکے ہیں۔لیکن ہم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ احمدی عورتوں کی ہر جگہ باقاعدہ انجنیں ہیں اور جو وہ کام کر رہی ہیں اس کے آگے ہماری استری سماجوں کا کام بالکل بے حقیقت ہے۔مصباح کو دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ احمدی خواتین ہندوستان - افریقہ - عرب - مصر - یورپ اور امریکہ میں کس طرح اور کس قدر کام کر رہی ہیں۔ان کا مذہبی احساس اس قدر قابل تعریف ہے کہ ہم کو شرم آنی چاہئیے۔چند سال ہوئے ان کے امیر نے ایک مسجد کے لئے پچاس ہزار روپے کی اپیل کی اور یہ قید لگادی کہ یہ رقم صرف عورتوں کے چندہ سے ہی پوری کی جائے۔چنانچہ پندرہ روز کی قلیل مدت میں ان عورتوں نے پچاس ہزار کی بجائے پچپن ہزارہ روپیہ جمع کر دیا اے اے صحیح یہ ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ روپیہ جمع ہوا۔سے تیج ۲۵ جولائی شملہ