سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 377 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 377

۳۷۷ میں دیا کرنا کہ غریب سے غریب احمدی بچی بھی کم از کم بنیادی تعلیم سے محروم نہ رہے۔ان تمام امور کا ذکر ایک الگ کتاب کا متقاضی ہے۔- خلاصہ کلام یہ کہ اپنے باون سالہ دورِ خلافت میں آپ نے ہندوستان کی پسماندہ عورت کو ایک ادنی مقام سے اُٹھا کہ ایک ایسے بند مقام پر فائز کر دیا جسے دنیا کے سامنے اسلام کی عظمت کے نمونہ کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے اور بعض امور ہیں وہ دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ اور آزاد ممالک کی عورتوں کے لئے بھی ایک مثال بن گئی قومی اور ملی امور میں قربانیوں کی چند مثالیں پہلے گزر چکی ہیں۔عام تعلیمی معیار کو بھی رکھیں تو احمدی عورت نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے خلافت کے آخری ایام میں ایک موقع پر جب ربوہ کی مردم شماری کی گئی تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ اگرچہ مردوں میں سے ایک معمولی تعداد ناخواندگان کی بھی پائی گئی لیکن عورت میں خدا تعالی کے فضل سے سو فیصدی خواندہ نکلیں۔ان متفرق تعمیری۔انتظامی اور فلاحی کوششوں کے علاوہ آپ کی ان تقاریر کا اثر جو بالخصوص مستورات کو مخاطب کر کے کی جاتیں اتنا گہرا اور وسیع تھا کہ اُسے کسی پیمانے سے نا پا نہیں جاسکتا۔لجنہ اماء اللہ کی طرف سے ایک کتاب الازبار لذوات الخمار آپ کے ایسے ہی خطابات سے اقتباسات اخذ کر کے شائع کی گئی ہے جو آپ نے مستورات کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں فرمائے ان کا مطالعہ نہایت بصیر افروز ہے قارئین یقینا ان کے مطالعہ سے ایک خاص حظ اُٹھائیں گے۔عموما ناصح سے لوگ بھاگا کرتے ہیں اور تربیتی تقریروں میں دلچسپی نہیں لیتے۔لیکن احمدی مستورات کا یہ عالم تھا کہ آپ کے پاکیزہ کلمات سننے کے لئے ناسازگار حالات میں بھی سفر اختیار کر کے پہنچتیں اور ایسے اخلاص اور جذبہ کے ساتھ ان نصائح کو سنتیں اور ان پر عمل پیرا ہو نہیں کہ اس کی مثال غالبا دنیا کی کسی اور انجمن کیسی اور قوم اور کسی اور ملک میں نظر نہیں آئے گی۔مکرم و محترم حاجی محمد الدین صاحب تمال ضلع گجرات کی ایک روایت اس ضمن میں احمدی عورتوں کی قلبی کیفیت کی آئینہ ہے ہے۔ایک دفعہ جب حضور سیالکوٹ ایک لیکچر کے سلسلہ میں تشریف لائے اور حاجی صاحب نے تقریر سننے کے شوق میں سیالکوٹ کا رخت سفر باندھا تو انکے بیان کے مطابق :-