سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 376
زیادہ تھی کہ چند دن یا چند سالوں کی ذہنی ورزش کا سامان جیا کر کے یہ مسئلہ نظر سے اوجھل ہونے دیتے۔چنانچہ 19 ء میں آپ نے ایک بار پھر جماعت کو اس کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا اور حسب ذیل الفاظ میں اہل فکر کو جھنجوڑا۔آپ نے فرمایا۔اب گزشتہ دو سال سے پردہ کے خلاف جو تحریک شروع ہو گئی ہے میں نے کئی سال قبل اس کے متعلق خبر کی تھی اور مجلس شوری میں اسی وجہ سے حقوق رائے دہندگی کا سوال اُٹھایا تھا کہ میں حد تک شریعیت عورتوں کو حق دیتی ہے ، ہمارا فرض ہے کہ دیں تا انہیں اسلامی تعلیم سے ہمدردی پیدا ہو اور جب تک ان کے اندر یہ جذبہ پیدا نہ ہو وہ عورتوں کو اسلامی احکام پر چلنے کی دعوت نہیں دے سکتیں اور عورتوں میں تبلیغ نہیں کر سکتیں لیکن جو عورت خود اپنے کو مظلومہ مہ سمجھے وہ دوسری کو کیا تبلیغ کر سکے گی۔پس دونوں چیزیں ضروری ہیں۔عورتوں کو تعلیم بھی دی جائے، اور ان کے حقوق بھی۔جو حقوق اسلام نے انہیں دیئے ہیں میں چاہیئے کہ خود ہی دے دیں تا ان کے اندر جوش پیدا ہو اور وہ اسلام کی جنگ اپنی جنگ سمجھ کر لڑیں - الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۳۷ ص ۸) احمدی عورت نے آپ کی قیادت میں ترقی کی جو منازل طے کیں اس کی تفصیل بڑی پیچپ اور اہل اسلام کے لئے بہت ہی حوصلہ افزا ہے۔عورتوں کے خصوصی تعلیمی اداروں کا قیام۔جامعہ نصرت کے ذریعہ کالج کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام جس میں دینی تربیت کا پہلو بہت نمایاں تھا۔پھر لجنہ اماء اللہ کی تعظیم کے ذریعہ یہ مختلف دستہ کاریوں و کی تربیت۔عورتوں کی علیحدہ کھیلوں کا انتظام، ان میں مباحثوں اور تقاریر کا ذوق و شوق پیدا کرنا مضمون نگاری کی طرف انہیں توجہ دلانا۔ان کے لئے علیحدہ اخباروں اور رسالوں کا اجراء اور جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ میں عورتوں کے علیحدہ اجلاس جن میں خواتین مقررین کا خواتین کو خود خطاب کرنا۔ہر قسم کی تعلیمی سہولتیں اس رنگ