سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 365
انا الحمام میں بھی شریک ہو ئیں۔اکثر مسجد اقصیٰ میں ایسے اجتماعات ہوتے اور بعض اوقات مستورات جگہ کی تنگی کے باعث ملحقہ احمدی گھرانوں کی چھتوں پر چڑھ کر جلسوں میں شرکت کرتیں۔ہمارا گھر چونکہ مسجد اقصی سے بہت قریب تھا اس لئے وہاں ہمیشہ لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ آواز پہنچانے کا انتظام کیا جاتا لیکن اس کے باوجود دینی مجالس میں شمولیت کے بارہ میں عورتوں کا ذوق و شوق ان زائد انتظامات پر بھی غالب آجاتا اور جگہ کی تنگی کا احساس برقرار رہتا۔آپ اس بات کو بھی پسند فرماتے کہ مجاہدین اسلام کی روانگی اور واپسی کے وقت مستورات کی تنظیم کی طرف سے نہ صرف ان کو دعوت دی جائے بلکہ ایسے موقع پر ایڈریس بھی پڑھے جائیں تاکہ رفتہ رفتہ عورتوں میں یہ قابلیت پیدا ہو کہ وہ عورتوں ہی کو نہیں بلکہ مردوں کو بھی خطاب کر سکیں۔جو ایڈریس پڑھے جانتے اُن پر بھی آپ تبصرہ فرمانے اور جس طور سے پڑھے جاتے اس پر بھی کبھی تنقید اور کبھی حوصلہ افزائی کے کلمات فرما کہ ہر رنگ میں عورتوں کی تربیت کی کوشش کرتے۔حضرت مولانا جلال الدین شمس رضی اللہ عنہ جب دسمبر ۱۹۳۷ء میں بلاد شام و فلسطین میں نہایت کامیابی سے فریضہ تبلیغ ادا کرنے کے بعد واپس تشریفت لائے توان کے اعزاز میں مستورات کی طرف سے بھی استقبالیہ دیا گیا جس میں انہوں نے سپاسنامہ پیش کیا۔اس پر جو تبصرہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ آپ کے اندازہ تربیت کی ایک عمدہ مثال ہے۔آپ نے فرمایا : سب سے پہلے میں اس امر پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ جو ایڈریس لجنہ کی طرف سے پیش ہوا وہ اگلے ایڈریسیوں سے بہت سی باتوں میں بہتر تھا۔ایک تو اس لئے کہ ان حقیقی مطالب پر مشتمل تھا جو ایسے مواقع کے لئے ہوتے ہیں۔دوسر نے اس لحاظ سے بھی کہ اس کے مطالب نہایت ہی سادہ عبارت میں بغیر کسی تکلف و بناوٹ یا غیر ضروری طوالت کے ظاہر کئے گئے ہیں اگر کمزوری تھی تو آواز میں۔شاید ابھی عورتوں میں بہت پیدا نہیں ہوئی کہ وہ بغیر پانچتے