سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 303

۳۰ کر رہے تھے۔ان پر نظر ڈالنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ حضرت خلیفہ ہے المسیح مرداب محمود احمد نے کسی مشکل کام پر ہاتھ ڈالی اور کیسی جرات اور حوصلے اور عزم کے ساتھ تن تنہا ہلاکت خیز طوفانوں کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔اس تاریک دور میں جب ساری قوم ظلمات کی طرف بلانے والوں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے لیکی چلی جاتی تھی ایک آپ ہی کی تنہا آواز تھی جو قادیان کے روشن مینار سے بلند ہوئی اور بر وقت اسلامیوں کو ہلاکت کے ان گڑھوں سے خبردار کیا جن کی طرف وہ بگٹٹ دوڑتے چلے جارہے تھے۔مولینا عبد المجید سالک اس زمانے کی آنکھوں دیکھی روئداد میش کرتے ہوئے اپنی کتاب سرگزشت" کے من پر مسلمانوں کی خلافت موومنٹ کے جلسوں کا ایک منظر حسب ذیل الفاظ میں پیش کرتے ہیں :- اسی رات کانگریس کے پنڈال میں خلافت کانفرنس کا اجلاس ہوا اس وقت بھولتا ہوں کہ صدر گاندھی جی تھے یا مولانا محمد علی بہر حال تمام اکابر اس میں شریک ہوئے۔اسٹیج پر گاندھی جی نلک مسر اپنی بہنٹ۔جیگر کیلکر۔محمد علی۔شوکت علی - ظفر علی خاں۔سید حسین - مولانا عبد الباری۔مولانا فاخر الہ بادی - مولانا حسرت موہانی اور بہت سے دیگر راہ نما موجود تھے۔مولانا محمد علی نے پہلے انگریزی میں تقریر شروع کی اور کہا کہ میں کچھ دیر تک انگریزی میں تقریر کروں گا۔تا کہ جو اکا بر ملک اُردو نہیں سمجھتے وہ خلافت کے مسلمانوں کے موقف کو سمجھ لیں اس کے بعد اُردو میں تقریر کروں گا۔مولانا کی تقریر بے نظیر تھی۔نہ صرف زبان اور انداز بیان کے اعتبار سے بلکہ مطالب کے لحاظ سے بھی پورے مسئلے پر حادی تھے اور جذبات انگیزی کی کیفیت اس فقرے سے معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں اب اس ملک سے ہجرت کر جانے کے سوا اور کوئی شرعی چارہ باقی نہیں ہے اس لئے ہم اس ملک کو چھوڑ جائینگے اور اپنے مکانات اپنی مساجد اپنے بزرگوں کے مزارات سب بطور امانت اپنے ہندو بھائیوں کو سونپ جائیں گے۔تا آنکہ ہم