سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 294
۲۹۴ سے یہ خیال دُور نہ کیا جاوے گا اسوقت تک ہرگز مسلمانوں کے مصائب دُور نہیں ہو سکتے۔پس اُٹھوا اور اپنے جوشوں کے پانی کو یونہی زمین پر بہنے دینے کی بجائے تبلیغ اسلام کی نہر کے اندر محدود کر دو۔تا ان کا کوئی فائدہ ہو اور ان سے کام لیا جا سکے۔پانی جب سطح زمین پر بہہ جاتا ہے۔تو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔لیکن وہی پانی جب نہر کی تشکیل میں بند کر دیا جاتا ہے تو اس سے ہزاروں ایکڑ زمین سیراب کی جا سکتی ہے اور آبشاریں بنا کر اس سے بجلی نکالی جاسکتی ہے۔پیس اے احباب کرام! ملک کے جوش کو بیہودہ طور پر ضائع نہ ہونے دو۔بلکہ اس سے اسلام کی ترقی کے لئے کام لو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالے کی نصرت کس طرح نازل ہوتی اور اسلام کے جلال کو دنیا پر ظاہر کرتی ہے یانہ آخر پر آپ نے اس مضمون کو ختم کرتے ہوئے اپنے اس یقین محکم کا اظہار کیا کہ سیاسی غلیہ کے با وجود عیسائیت کے دن اب گنے جاچکے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے ظہور کے بعد زمانے کے حالات بہر حال بدلیں گے اس لئے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں چنانچہ اس فقرے پر آپ نے مضمون کو ختم کیا کہ :۔خدا کی غیرت اس کے مامور کے ذریعہ سے ظاہر ہو چکی ہے۔اور اب سب دنیا دیکھ لے گی کہ آئندہ اسلام مسیحیت کو کھانا شروع کر دے گا اور دنیا کا آئندہ مذہب وہی ہو گا جو اس وقت سب سے کمزور مذہب سمجھا جاتا ہے۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ يله اس کانفرنس پر سبھی مچھ ماہ گذر گئے لیکن ہے کا پر سبھی ماہ گزر گئے آنٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۔تمام ہندوستان میں شور و غوغا تو برپا رہا لیکن ایک کوڑی کا فائدہ نہ ترکوں کو حاصل ہوا ، له الفضل ، جون ۹۳ مشت ۲ ایضاً مه