سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 277
مترادف تھا کہ سلطان عبد الحمید محض ایک دنیوی بادشاہ ہے اور خلافت راشدہ اسلامیہ سے اُسے حقیقت میں کوئی نسبت نہیں۔ایسے وجود کے متعلق یہ سننا وہ کسی طرح گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ اس کے فیصلوں میں کسی قسم کی غلطی کا احتمال ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تنہاء آواز ہندوستان کے نقار خانے میں سنی تو گئی مگر سخت ناپسندیدگی کے ساتھ۔بہر حال جنگ کے اختتام پر جب اتحادیوں نے ترکی سے انتقام لینے کی ٹھانی اور ترکی کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے تین بڑی طاقتوں امریکہ۔فرانس اور انگلستان کے نمائندے بوسل میں جمع ہوئے تو ہندوستان کے مسلمانوں میں شدید ہیجان پیدا ہو گیا۔چنانچہ ۲۱ ستمبر سال کو سلم کا نفرنس کے زیر اہتمام مسلمان راہنماؤں کا ایک اجلاس لکھنو میں طلب کیا گیا جس کے سیکرٹری چوہدری ظهور احمد وکیل نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دی۔اسی طرح مولوی سلامت اللہ صاحب فرنگی محلی نے بھی اپنی ذاتی حیثیت میں حضور کو شمولیت کے لئے تاکیدا عرض کی۔یہ دعوت نامہ آپ کو ، استمبر کو ملا۔۱۸ ستمبر کو آپ نے اس موضوع پر اپنی آراء کو قلمی جامہ پہنایا۔وار کو مضمون ایک رسالہ کی صورت میں بعنوان لڑکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض طبع ہو کر تیار ہو گیا۔اور اسی روز حضور کے نمائندگان کا ایک وفد حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لکھنو روانہ ہو گیا۔یہ ضمون حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی گہری سیاسی بصیرت کا آئینہ دار اور آپ کی غیر معمولی جرأت اور حق گوئی کا شاہکا ہے ایسے حقائق کا بیان جو اس وقت کے جذباتی ماحول نہیں مسلمانوں کے لئے تلخی کام و دہن کی کردی آزمائش تھے۔آپ نے لومتر لائم سے بے پرواہ ہو کر اُن کو جبر عہ بحر کہ پلائیے اور قطعا پر واہ نہ کی کہ اس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ جو پہلے ہی ہدف سلامت ہے ان کے طعن و تشنیع کا مزید نشانہ بنے گی۔جو کچھ آپ نے سوچا زمانے نے ثابت کیا کہ وہی حق تھا۔جو کچھ آپ نے کہا خود ترکی کے اہلِ بصیرت وطن پرستوں کے نزدیک بھی وہی درست تھا اور بعد کے آنے والے حالات نے گواہی دی کہ آپ کے مشوروں کو قبول نہ کرنے کے نتیجہ میں عالم اسلام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ترکی کے نشیلہ پر جو کئی سال تک ہندوستان میں سیاسی قیاس آرائیوں اور ہنگامہ خیزیوں کا موجب بنا رہا حضر خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے زیر نظر مضمون میں جن خیالات کا اظہار فرمایا ان کا لب لباب یہ تھا کہ تمام عالیم اسلام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے خلافت کی محبت کو ترک کر دیا جائے اور ترکی کی مدد محض ایک مظلوم مسلمان سلطنت کے حوالے سے کی جائے۔اس سے ایسے مسلمان