سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 271
مسٹر انٹیگو کی ہندوستان میں آمد بعض اہم سیاسی مشورے سب سے پہلے مسلمانان ہند کی سیاسی بہبود میں آپ کی دلچسپی کا سراغ شاء میں مسٹر مانٹیگو وزیر پسند کی ہندوستان میں آمد کے موقع پر ملتا ہے۔برطانوی حکومت اگرچہ اصولاً ہندوستان کی آزادی کا حق تسلیم کر چکی تھی لیکن عملاً آزادی کی صورت میں پیدا ہونے والے متعد د مسائل حل طلب تھے اور ملک کو تدریجا آزادی کی طرف لے جانے اور حکومت میں حصہ دے کر حکومت کے اہل بنانے کے سلسلہ میں متعد د تجاویز زیر غور تھیں اسی ضمن میں وزیر سند خود دہلی تشریف لا رہے تھے تا کہ مختلف سیاسی گروہوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر کے ذاتی طور پر صورت حال کا جائزہ لے سکیں۔بلاش یہ ہندوستان میں بسنے والی ہر قوم کے لئے یہ ایک بہت ہی اہم موقع تھا۔لیکن مسلمانوں کے لئے تو اس کی اہمیت اور بھی زیادہ تھی۔کیونکہ صرف انگریز سے ہی ایسے حقوق لینے کا سوال نہیں تھا بلکہ ہندوستان کی ہندو اکثریت کی محکومی سے بچنے کا بھی سوالی درپیش تھا۔پس موقع کی اہمیت کے پیش نظر حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بنفس نفیس دہلی تشریف لے جانے کا فیصلہ کیا تا کہ خود وزیر ہند سے ملاقات کر کے مسلمانوں کے موقف کو بطریق احسن پیش کر سکیں علاوہ از میں جماعت کے نمائندگان پرمشتمل ایک باقاعدہ وفد بھی تیار کیا جو اسلامیان ہند کے مسائل اور ان کے بہترین حل کے بارہ میں جماعتی نقطہ نگاہ پیش کرے۔حضور نے محرم محترم چو ہدری ظفر الله خان صاحب کو اس وفد کا قائد مقرر فرمایا جنھوں نے لارڈ مانٹیگو کی خدمت میں ایک ایڈریس پیش کیا۔جو خود حضرت خلیفہ اس سیخ نے تیار کیا تھا۔بعد ازاں جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مسٹر مانٹیگو سے ملاقات کی تو محترم چوہدری صاحب ہی نے ترجمانی کے فرائض بھی سر انجام دیئے۔اس موقع پر مسلمانوں کے سیاسی مفاد میں جو مشورے حضور نے دیئے ان کا مرکز میں نقطہ یہ تھا کہ اصلاح کے نام پر بعض اوقات بظاہر پسندیدہ اور خوش کن اقدامات کئے جاتے ہیں جو عملا لبعض قوموں کے لئے نہایت نقصان دہ اور غیر منصفانہ ثابت ہوتے ہیں مثلاً اقلیت کو تعداد سے کچھ زیادہ حق نمائندگی دینا بظاہر ایک خوش کن سیاسی اصول ہے لیکن اگر آنکھیں بند کر کے اس کا اطلاق کیا جائے •