سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 252
۲۵۲ اس لئے ان پر ایمان لانا چاہیئے تو کہا جا سکتا ہے کہ پھر تمہیں ان سے کیا تعلق؟ اگر ان کی معرفت وحی کا آنا ہمیں معلوم نہ ہو تو ہمارے ایمان اور ہمارے عمل میں کیا کمی آجائے گی ؟ اگر یہی فرض کر لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام بلا حوالہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل فرماتا تھا تو اس سے کیا حرج واقع ہوگا ؟ اس سے قرآن کریم میں تو کوئی کمی نہیں آجائیگی۔پھر ہم سے فرشتوں کا وجود کیوں منوایا جاتا ہے ؟ اور اتنے زور سے کیوں منوایا جاتا ہے کہ اگر نہ مانیں تو مسلمان ہی نہیں رہتے۔کافر ہو جاتے ہیں یا لے بعد ازاں آپ نے وجود ملائکہ کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر پیش کیا جس کا اثبات دیگر حقائق کی طرح ٹھوس دلائل سے کیا جا سکتا ہے۔آپ نے فرمایا :- نئی تعلیم کی وجہ سے ملائکہ پر بہت اعتراض کئے جاتے ہیں مگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو ثابت کر سکتے ہیں اور اسی طرح ثابت کر سکتے ہیں جس طرح اور بہت سی چیزوں کو ثابت کیا جاتا ہے جو نظر سے غائب ہوتی ہیں یہ تقریر کے آغاز میں آپ نے ملائکہ کے متعلق ان تصورات کا ذکر بھی کیا جو دیگر قدیم و جدید نذاب میں پائے جاتے ہیں اور یہ ثابت کیا کہ یہ ایک ایسا تصور ہے جو مختلف مذہبی قوموں میں ہر زمانے میں کسی نہ کسی رنگ میں موجود رہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملائکہ کا تصور کوئی واہمہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس ندہی حقیقت ہے جو سب مذاہب میں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہے۔مزید برآں آپ نے یہ بھی ثابت فرما یا کہ مختلف مذاہب میں فرشتوں کے تصورات صرف اجمالی اشتراک نہیں رکھتے۔بلکہ بعض صورتوں میں حیرت انگیز طور پر تفصیلی اشتراک بھی پایا جاتا ہے۔چنانچہ زرتشتی مذہب میں فرشتوں کا تصور پیش کرتے ہوئے آپ نے بتایا :- زشتی کتب میں سب سے بڑے فرشتہ کا نام دو ہو ماناح لکھا ہے۔اسے دہشتا ماناح بھی کہتے ہیں یعنی سب سے بہتر فرشتہ، دو ہو اناج کے منے نیک دل یا اصلاح کرنے والے فرشتہ کے ہیں اور عبرانی اور عربی میں جبریل کے معنے بھی اصلاح کے ہیں۔پیس دونوں ناموں کی مطابقت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو ہوتا ناح در حقیقت جبریل کا ہی نام ہے۔زرتشتی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دماغ کو روشنی اس فرشتہ ے ملائکہ اللہ ملت